Urdu book · مطالعہ سیرت

امن کی طاقت

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

منگولوں کی بیشتر تعداد نے اسلام قبول کر لیا اور وہ معجزاتی واقعہ پیش آیا جس کو ایک مستشرق نے ان الفاظ میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے: The religion of Muslims has conquered where their arms had failed ٦۔ اس نوعیت کا ایک عظیم واقعہ یہ ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد حکومتی نظام میں بگاڑ آگیا۔ خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو گئی جو مسلسل جاری رہی۔ اس وقت بظاہر وہ تمام اسباب پیدا ہو گئے جو حکمرانوں سے ٹکراؤ کی دعوت دے رہے تھے۔ مگر پیغمبر کی ہدایت کے مطابق اہل اسلام نے مکمل طور پر سیاسی ٹکراؤ سے اعراض کیا۔ یہ تاریخ بنو امیہ کی خلافت سے شروع ہو کر صدیوں تک جاری رہی جب کہ تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء، صوفیاء، تمام اکابر امت نے تقریبا بلا استثناء اپنے آپ کو ٹکراؤ سے الگ رکھا۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ دراصل وائلنٹ ایکٹوزم کے میدان سے ہٹ کرنان وائلنٹ ایکٹوزم کے میدان میں آنا تھا۔ چنانچہ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ ایک طرف مختلف ملکوں میں پرامن دعوہ ورک جاری ہوا۔ اور دوسری طرف اسی زمانہ میں قرآن، حدیث، فقہ، اور دوسرے اسلامی علوم بڑے پیمانہ پر مدون ہوئے۔ ہمارے کتب خانہ کی وہ تمام قیمتی کتابیں جن کو اسلام کا کلاسیکل لٹریچر کہا جاتا ہے وہ اسی پرامن عمل کے نتیجہ میں تیار ہوں۔ مثال کے طور پر حدیث کو اسلام میں قرآن کے بعد دوسرا شرعی ماخذ مانا جاتا ہے۔ یہ حدیثیں آج ہمارے پاس حدیث کی کتابوں میں مدون ہو کر مطبوعہ صورت میں موجود ہیں۔ یہ اتنی زیادہ قیمتی ہیں کہ ان کے بغیر دین کا ڈھانچہ ہی نہیں بن سکتا۔ بنوامیہ اور بنو عباس کے زمانہ میں جب کہ حکمرانوں میں بگاڑ آیا اس وقت یہ تمام حدیثیں کہاں تھیں ۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page