امن کی طاقت
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام حدیثیں ان بزرگان امت کے سینہ میں تھیں جن کے نام آج حدیث کی کتابوں میں سلسلہ سند کے طور پر لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر یہ لوگ تشدد کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے اپنے وقت کے ’’ظالم‘‘ حکمرانوں سے لڑجاتے تو یہ حکمران ان سب کو تہہ تیغ کر دیتے اور احادیث کا پورا ذخیرہ کتابوں میں مدفون ہونے کے بجائے قبروں کے اندر دفن ہو جاتا۔ یہ صرف وائکنٹس کے مقابلہ میں نان وائکنٹس کو اختیار کرنے کا کرشمہ ہے کہ احادیث کا قیمتی ذخیرہ آج ہماری الماریوں میں چھپا ہوا مجلد صورت میں موجود ہے۔ اور ہم ہر لمحہ اس پوزیشن میں ہیں کہ ھدی محمدی سے کامل استفادہ کر سکیں۔ سیاسی خروج حرام خلافت راشدہ کے بعد مسلم حکمرانوں میں واضح بگاڑ آنے کے باوجود علماء امت نے ان کے خلاف خروج (بغاوت) نہیں کیا۔ وہ ایک ہزار سال تک اس معاملہ سے بالکل بے تعلق رہتے ہوئے غیر سیاسی میدان میں اپنی کوششیں صرف کرتے رہے۔ یہ اتفاقا نہیں تھا بلکہ واضح شرعی حکم کی بنیاد پر تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، حدیث کی کتابوں میں کتاب الفتن یا دوسرے ابواب کے تحت تفصیلی روایات آئی ہیں۔ جن کے مطابق پیغمبر اسلام ﷺ نے صریح الفاظ میں یہ فرمایا کہ بعد کے زمانہ میں حکمرانوں کے اندر طرح طرح کا بگاڑ آئے گا۔ وہ ظلم اور بے انصافی کا معاملہ کریں گے۔ مگر تم لوگ ہرگز ان کے خلاف تلوار نہ اٹھانا بلکہ تم یہ کرنا کہ اپنے ’’اونٹ اور بکری‘‘ کولے کر پہاڑوں کی طرف چلے جاتنا۔ ’’اونٹ اور بکری‘‘ سے مراد وہ مواقع کار ہیں جو حکمرانوں کے بگاڑ کے باوجود ان کے لئے غیر سیاسی میدان میں موجود تھے۔ آپ کی ہدایت کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگ سیاسی میدان میں ٹکراؤ سے ہٹ کر غیر سیاسی میدان میں موجود مواقع کو پر امن طور پر استعمال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader