Urdu book · مطالعہ سیرت

امن کی طاقت

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنا۔ پیغمبر اسلام کی یہ ہدایات اتنی واضح تھیں کہ علماء اسلام نے بعد کے زمانہ میں اس پر اجماع کر لیا کہ حکمرانوں کے خلاف بغاو کرنا حرام ہے اور اس سے انھیں ہر حال میں اجتناب کرنا چاہیے۔ امام النووی نے صحیح مسلم کی شرح میں کتاب الامارۃ کے تحت احادیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۔۔۔ تم لوگ حکمرانوں سے ان کے اقتدار کے معاملہ میں نزاع نہ کرو، اگر تم ان کے اندر صریح خلاف اسلام بات دیکھو تب بھی تم صرف ناصحانہ قول کے ذریعہ ان پر حق واضح کرنے کی کوشش کرو۔ اور جہاں تک ان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے بغاوت اور جنگ کا تعلق ہے تو وہ مسلمانوں کی اجماعی رائے کے مطابق حرام ہے۔ اگرچہ وہ فاسق اور ظالم ہی کیوں نہ ہوں : واما الخروج عليهم وقتالهم فحرام باجماع المسلین وان كانوا فسقة ظالمین (صحیح مسلم بشرح النووی ۲۲۹/۱۲) پیغمبر اسلام کا یہ حکم، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا، نہایت اہم مصلحت پر مبنی تھا۔ اصل یہ ہے کہ دور اول میں (اور اس کے بعد بھی) سیاسی ادارہ کے باہر بے شمار علمی، دعوتی اور اصلاحی کام موجود تھے جن کو انجام دینا ضروری تھا۔ ان کی انجام دہی کے بغیر اسلام کی تاریخ ادھوری رہ جاتی۔ امت کے علماء اگر سیاسی ادارہ سے ٹکراؤ میں مصروف ہو جاتے تو یقینی طور پر یہ تمام تعمیری کام انجام پانے سے رہ جاتے۔ اس لئے پیغمبر اسلام نے صراحت اور تاکید کے ساتھ یہ حکم دیا کہ تم لوگ سیاسی ٹکراؤ سے اعراض کرو۔ یہ اعراض اس بات کی ضمانت تھا کہ سیاست کے علاوہ تعمیری شعبوں کا کام غیر منقطع طور پر جاری رہے گا۔ ہر سماج میں ہمیشہ دو متوازی مواقع موجود رہتے ہیں۔ ایک سیاسی ادارہ، اور دوسرا غیر سیاسی نظام جو مختلف غیر سیاسی اداروں کے ذریعہ قائم ہوتا ہے۔ اسلام کی اسکیم یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page