امن کی طاقت
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
سماجی سطح پر قائم ہونے والے غیر سیاسی نظام کو ہمیشہ مستحکم رکھا جائے۔ اس طرح یہ کوشش کی جائے کہ سیاسی ادارہ کے بگڑا یا تبدیلی کے باوجود غیر سیاسی نظام کی سطح پر اسلام مسلسل قائم رہے۔ جنگ کا حکم اسلام میں قرآن کی بعض آیات میں جنگ (قتال) کا حکم دیا گیا ہے۔ (الحج ۳۹) اس سلسلہ میں قرآن کے مطالعہ سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ۱۔ پہلی بات یہ کہ جارحیت یا مسلح جنگ کا آغاز اہل اسلام کی طرف سے مطلقاً جائز نہیں۔ چنانچہ قرآن میں صراحتہً یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے اللہ کے راستہ میں جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور تم خود جارحیت نہ کرو (البقرہ ۱۹۰) ۲۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ جائز ہے ۔ یعنی وہ جنگ جس میں جارحانہ آغاز دوسروں کی طرف سے کیا گیا ہو اور اہل اسلام بطور دفاع جنگی اقدام کریں۔ آغازِ جنگ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے کہ وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ کا آغاز پہلی بار کیا ہے ( وھم بدؤ کم اول مرۃ) التوبہ ۱۳ اس سلسلہ میں مزید یہ کہ فریق ثانی کی طرف سے جنگی اقدام ہو تب بھی اہل اسلام کی طرف سے فورا دفاعی اقدام نہیں کیا جائے گا بلکہ ابتداء جنگ سے اعراض کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور جب اعراض نا ممکن ہو جائے تو اس وقت ناگزیر دفاع کے طور پر جنگ کی جائے گی۔ رسول اللہ کے تمام غزوات اسی اصول کی عملی مثال ہیں۔ جیسے کہ غزوۂ احزاب میں آپ نے لڑنے کے بجائے خندق کھود کر جنگ کو ٹال دینے کی کوشش کی اور حنین میں اس لئے جنگ کی کہ وہاں جنگ کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ ۳۔ قرآن کے مطابق جنگ کی ایک قسم وہ ہے جو وقتی طور پر مطلوب تھی۔ یہ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader