Urdu book · مطالعہ سیرت

امن کی طاقت

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

فتنہ کو ختم کرنے کے لئے جنگ (وقاتلوهم حتى لا تكون فتنه) البقرة ١٩٣ اس آیت میں فتنہ سے مراد جبری نظام ہے جو آخر کار مذہبی تعذیب (religious persecution) تک پہنچ جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں جبر کا یہ سیاسی نظام قائم تھا۔ اس جبری نظام نے انسان کے اوپر روحانی اور مادی دونوں قسم کی ترقیوں کے دروازے بند کر دیئے تھے۔ اس وقت حکم ہوا کہ اس جبری نظام کو توڑ کر آزادی کا نظام لاؤ تا کہ انسان کے اوپر روحانی اور مادی ترقیات کے دروازے کھل سکیں۔ یہ کام پیغمبر اسلام کے زمانہ میں عرب کے اندر داخلی سطح پر انجام پایا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ کے زمانہ میں ساسانی ایمپائر اور باز نطینی ایمپائر کو خدائی مدد سے توڑ دیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں بین اقوامی سطح پر فکری جبر کا نظام ختم ہو کر فکری آزادی کا دور شروع ہوا۔ اس ذیل میں وہ روایت بے حد قابل لحاظ ہے جو صحیح بخاری میں آئی ہے ۔ خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کے بعد جب عبداللہ ابن زبیر اور بنوامیہ کے درمیان سیاسی جنگ شروع ہوئی تو عبداللہ بن عمر جو اس وقت سینئر موسٹ صحابی تھے وہ اس جنگ سے الگ رہے۔ لوگوں نے مذکورہ آیت کا حوالہ دے کر ان سے کہا کہ خدا نے خدا نے قتال فتنے کا حکم دیا ہے پھر آپ کیوں نہیں قتال کرتے۔ انھوں نے جواب دیا کہ فتنہ سے مراد تمہاری یہ سیاسی لڑائی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد مذہبی جبر تھا اور اس کا خاتمہ ہم نے کر دیا۔ (قد فعلنا) فتح الباری ۱۶۰/۸ اس سے معلوم ہوا کہ قتال فتنہ کی جنگ ایک وقتی اور محدود جنگ تھی جو خلافت راشدہ کے زمانہ میں آخری طور پر مکمل ہو گئی۔ اب اس آیت کا نام لے کر جنگ کرنا درست نہیں۔ الا یہ کہ بالفرض وہی حالت دوبارہ پیدا ہو جائے جو آیت کے نزول کے وقت پائی جاتی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page