امن کی طاقت
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کے سیرت نگار آپ کے غزوات کی تعداد ۸۰ سے زیادہ بتاتے ہیں۔ اس طرح کی چیزیں پڑھ کر ایک عام آدمی یہ تاثر قائم کرلیتا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی ۲۳ سالہ عمر نبوت میں گویا ہر سال تقریباً چار مرتبہ جنگ کی۔ مگر یہ تاثر سراسر بے بنیاد ہے، اصل حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی پوری پیغمبرانہ زندگی میں صرف تین بار باقاعدہ جنگ کی ہے۔ اس کے سوا جن واقعات کو ”غزوہ“ کہا جاتا ہے وہ دراصل جنگ سے اعراض کے واقعات ہیں نہ کہ جنگ میں ملوث ہونے کے واقعات۔ مثلاً سیرت کی کتابوں میں الاحزاب کے واقعہ کو غزوہ (جنگ) بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر عرب کے مسلح قبائل ۱۲ ہزار کی تعداد میں جنگ کے ارادہ سے مدینہ کی سر حد پر پہنچے لیکن پیغمبر اور ان کے اصحاب نے خندق کھود کر اپنے اور ان کے در میان ایک روک (buffer) قائم کر دیا اور اس طرح جنگ کی نوبت نہ آنے دی، یہی معاملہ دوسرے ان تمام واقعات کا ہے جن کو غزوہ کہا جاتا ہے۔ پیغمبر کے مخالفین نے بار بار آپ کو جنگ میں الجھانا چاہا مگر ہر بار آپ نے کوئی نہ کوئی تدبیر کر کے جنگ کو ٹال دیا یا جنگ کے بم کو ڈیفیوز کر دیا۔ صرف تین مواقع ایسے ہیں جب کہ آپ مسلح مقابلہ کے میدان میں داخل ہوئے ۔۔۔ بدر، احد، حنین۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ان تینوں مواقع پر جنگ نا گزیر ہو چکی تھی۔ اس لئے آپ نے مجبورانہ دفاع کے طور پر جارحین کا مقابلہ کیا۔ مزید یہ کہ یہ تینوں جنگیں آدھے آدھے دن کے لئے تھیں۔ وہ دوپہر بعد شروع ہو کر غروب آفتاب تک ختم ہو گئیں۔ اس لئے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ پیغمبر نے اپنی پوری زندگی میں عملاً صرف ڈیڑھ دن جنگ کی ہے۔ گویا پیغمبر کی ۲۳ سالہ عمر نبوت میں آپ ڈیڑھ دن کو چھوڑ کر پوری مدت تک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader