Urdu book · مطالعہ سیرت

امن کی طاقت

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

نان وائلنس کے اصول پر قائم رہے۔ قرآن میں پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو قتال کا حکم دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اس معاملہ میں فریق ثانی نے ہی پہلے آغاز کیا ہے (التوبہ ۱۳) یہ آیت اس معاملہ میں قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے کہ اسلام میں جنگ صرف دفاعی ہے۔ خود سے اپنی طرف سے جارحیت کر کے جنگ چھیڑنا اہل اسلام کے لئے جائز نہیں۔ اسلام کا طریقہ کار مکمل طور پر نان وائلنس کے اصول پر قائم ہے۔ ناگزیر دفاع کے سوا کسی بھی حالت میں اسلام وائلنس کی اجازت نہیں دیتا۔ دور حاضر اور نان وائلنس موجودہ زمانہ میں اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ میرے نزدیک یہ ہے کہ نان وائلنس کی سنت کو مسلمانوں نے تقریباً بھلا دیا۔ موجودہ زمانہ میں جب ترکی خلافت اور مغل سلطنت کا خاتمہ ہو اور فلسطین جیسے مسائل پیش آئے تو ساری دنیا کے مسلمان اتنے بڑے پیمانہ پر منفی رد عمل کا شکار ہوئے کہ کسی کو یاد نہیں رہا کہ اسلام کی پالیسی نان وائلنس کی پالیسی ہے نہ کہ وائلنس کی پالیسی۔ اسلام سے اسی انحراف کا نتیجہ تھا کہ سو سال سے زیادہ مدت تک خونی جنگ کے باوجود مسلمان کوئی بھی مثبت نتیجہ حاصل نہ کر سکے۔ اس کے بجائے یہ ہوا کہ جو کچھ انھیں اس کے بعد بھی حاصل تھا اس کو بھی انہوں نے ناقابل بیان حد تک کھو دیا۔ امام مالک کا قول ہے کہ اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی طریقہ سے ہوگی جس طریقہ سے امت کے اول کی اصلاح ہوئی تھی۔ (لن يصلح آخر هذه الامة الا بما صلح بہ اولھا) اس بات کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ پہلے زمانہ کے مسلمانوں کے معاملات نان وائلنٹ متھڈ کے ذریعہ درست ہوئے تھے اسی طرح موجودہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page