امن کی طاقت
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانہ کے مسلمانوں کے حالات بھی نان وائلنٹ متحد کے ذریعہ درست ہوں گے۔ وائلنٹ متحد کے ذریعہ نہ پہلے کوئی فائدہ مل سکتا تھا اور نہ آج اس کے ذریعہ کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے حالات حدیبیہ کے حالات کے مشابہ ہیں۔ آج دوبارہ یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ فریق ثانی بہت بڑے پیمانہ پر اس روش کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کو قرآن میں حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے (الفتح ۲۶) دور اول میں اس کا حل یہ تھا کہ مسلمان رد عمل کا شکار ہو کر خود حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ وہ کلمہ تقویٰ کو پکڑ لیں۔ اسی طرح انھیں خدا کی مدد حاصل ہوگی اور وہ فتح مبین کے مستحق بن جائیں گے (الفتح ۲۶) حدیبیہ کے معاہدہ کے وقت عرب میں یہ حالات تھے کہ قریش جن کو عرب کی لیڈر شپ حاصل تھی وہ لڑائی پر تلے ہوئے تھے۔ انھوں نے حرم پر قبضہ کر رکھا تھا۔ انھوں نے پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو ان کے وطن سے نکال دیا تھا۔ انھوں نے مکہ کے مسلمانوں کے گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ مسلسل اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہے تھے۔ ان حالات میں اہل اسلام کے سامنے دو انتخاب (آپشن) تھے۔ ایک یہ کہ وہ ظلم کو ختم کرنے اور اپنے اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے نام پر فریق ثانی سے جنگ چھیر دیں۔ جس کا نتیجہ یقینی طور پر خود اہل اسلام کے لئے مزید جانی اور مالی نقصان کی صورت میں ظاہر ہوتا۔ دوسرا آپشن یہ تھا کہ وہ بروقت ہونے والے سیاسی یا مادی نقصان پر صبر کر لیں اور اس نقصان کے باوجود اب بھی جو امکانات عملی طور پر ان کے لئے موجود ہیں ان کو استعمال کریں۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے اس دوسرے آپشن کو لیا۔ اس کا شاندار نتیجہ یہ نکلا کہ صرف چند سال کے اندر پورے ملک کی تاریخ بدل گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader