Urdu book · مطالعہ سیرت

دورِ حاضر کے لئے پیغمبرانہ رہنمائی

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

دور حاضر کے لئے پیغمبرانہ رہنمائی پیغمبر اسلام ﷺ کو قرآن میں سارے عالم کے لئے رحمت بتایا گیا ہے (الانبیاء ۱۰) یہ کوئی پر اسرار بات نہیں، یہ ایک فطری حقیقت ہے جس کو علمی اور عقلی مطالعہ کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جو حیران کن حد تک وسیع اور پیچیدہ ہے۔ انسان اس دنیا سے کس طرح اپنا تعلق قائم کرے اور اپنے فکر کی تشکیل کس طرح کرے، یہ سب کچھ اس کے لئے ایک نامعلوم بات ہوتی ہے۔ وہ نہ پیدائش کے ساتھ کوئی گائیڈ بک اپنے ساتھ لے کر آتا ہے اور نہ کسی پہاڑ کے اوپر ایسا کوئی بورڈ دکھائی دیتا ہے جس میں اس کے لئے ضروری ہدایات لکھی ہوئی موجود ہوں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان لمبی مدت تک اندھیرے میں بھٹکتار رہتا ہے اور بہت مشکل سے کبھی علم کا کوئی سرا اس کے ہاتھ آتا ہے اور کبھی وہ اس سے بھی محروم رہتا ہے۔ اس کی ایک مثال فلسفہ اور سائنس کا مسئلہ ہے، فلسفہ کیا ہے۔ فلسفہ کائنات کے اسرار کو علمی طور پر دریافت کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انسان اپنے اندر پیدائشی طور پر تجسس کا مزاج رکھتا ہے۔ وہ چیزوں کی حقیقت کو جاننا چاہتا ہے۔ اس بنا پر فلسفہ اپنی ابتدائی صورت میں اسی وقت سے موجود تھا جب کہ انسان اس دنیا میں آباد ہوا۔ تاہم زیادہ واضح اور منظم صورت میں فلسفہ کی شروعات پانچ ہزار سال پہلے یونان میں ہوئی ۔ اس کے بعد دنیا کے مختلف علمی مراکز میں فلسفیانہ غور و فکر کا سلسلہ باقاعدہ صورت میں جاری ہو گیا۔ لیکن پانچ ہزار سال کی مسلسل کوشش کے باوجود فلسفہ کوئی با معنی چیز انسان کو نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page