Urdu book · مطالعہ سیرت

دورِ حاضر کے لئے پیغمبرانہ رہنمائی

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

دے سکا۔ اس مدت میں بے شمار بڑے بڑے دماغوں کی کاوش صرف انتشار ذہنی پر ختم ہوتی رہی۔ اس کے مقابلہ میں سائنس نے انسان کو صرف دو سو سال کے اندر اتنی زیادہ چیزیں دی ہیں جن کا شمار بھی سخت مشکل ہے۔ یہ صرف سائنس ہے جس نے انسان کو اس دور تک پہنچایا جس کو جدید تمدنی دور کہا جاتا ہے۔ دونوں میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سائنس نے علم کی محدودیت کو جانا اور اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو استعمال کیا۔ جب کہ فلسفہ ہزاروں سال تک اس محدودیت سے بے خبر تھا۔ قدیم زمانہ میں فلسفہ اور سائنس کے دائرے ایک دوسرے سے الگ الگ نہ ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر انسانی علم کا جز سمجھنے جا رہے تھے۔ قدیم فلاسفہ علم کے سارے ہی پہلوؤں کو اپنے دائرہ کی چیز سمجھتے تھے اور ان پر مجموعی غور و فکر کرتے تھے۔ مگر تین سو سال پہلے مطالعاتی تقسیم کا ایک واقعہ عمل میں آیا۔ فلسفہ اور سائنس کے موضوعات کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔ اب معنوی حقائق پر غور و فکر فلسفہ کا موضوع بنا۔ اور موضوعی حقیقتیں سائنس کے مطالعہ کی چیز قرار پائیں۔ اب پھول کی کیمسٹری سائنس کا موضوع بن گئی اور پھول کی معنویت فلسفہ کا موضوع۔ علم کی یہ حد بندی یا دوسرے لفظوں میں، انسانی محدودیت کا یہ اعتراف غیر معمولی نتائج کے ظہور کا سبب بنا۔ قدیم زمانہ میں انسان قابل دریافت اور نا قابل دریافت کے درمیان تفریق کے بغیر یکساں طور پر ذہنی کاوش میں مصروف رہتا تھا جو عملاً ایک بے نتیجہ کوشش کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ مگر جب اس نے نا قابل دریافت کو الگ کر کے قابل دریافت پر محنت شروع کی تو اس کی کوشش اس کو غیر معمولی نتائج تک پہنچانے کا سبب بن گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page