مطالعہ سیرت
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ نہ اسلامی جرات ہے اور نہ سنت رسول کی پیروی۔ وہ صرف ایک غیر حکیمانہ جوش ہے۔ اور غیر حکیمانہ جوش کا کوئی نتیجہ نہ موجودہ دنیا میں نکلنے والا ہے اور نہ بعد کو آنے والی دنیا میں۔ یہ دنیا فطرت کے اٹل قوانین پر چل رہی ہے۔ پیغمبر نے جو کچھ کیا وہ فطرت کے ان قوانین کی پیروی کرتے ہوئے کیا۔ آپ نے بلاشبہ اپنی زندگی میں عظیم کامیابی حاصل کی مگر یہ کامیابی آپ کو جوش و خروش یا غیر ضروری ٹکراؤ کے ذریعہ حاصل نہیں ہوئی۔ بلکہ قوانین فطرت کی کامل مطابقت کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ بعد کے آنے والے مسلمانوں کے لئے بھی آپ کی یہ سنت ایک ابدی نمونہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ اس دنیا میں قابل عمل نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان اس عظیم سنت نبوی کو جاننے سے محروم ہو گئے۔ اور اس کی سادہ وجہ یہ تھی کہ اس کو ہماری کتابوں میں سنت کے طور پر ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ موجودہ زمانہ کے سیرت نگاروں کا عام طریقہ یہ ہے کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کا تقابل دوسرے پیغمبروں سے کرتے ہیں اور اپنے پیغمبر کو افضل اور دوسروں کے پیغمبر کو غیر افضل ثابت کرتے ہیں۔ مطالعہ کا یہ طریقہ حدیث میں صریح طور پر منع کیا گیا ہے۔ اس ممنوع چراگاہ میں داخل ہونے کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارے سیرت نگار بھانک قسم کی علمی غلطیاں کرتے ہیں اور اس طرح امت میں غیر علمی طرز فکر کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں۔ مثلاً عام طور پر پیغمبر اسلام اور حضرت مسیح کا تقابل کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح کے یہاں نرمی ہی نرمی تھی اور پیغمبر اسلام کے یہاں نرمی اور سختی دونوں۔ اس طرح یہ تصور دیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح ایک ناقص پیغمبر تھے اور پیغمبر اسلام ایک کامل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader