دورِ حاضر کے لئے پیغمبرانہ رہنمائی
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں علمی حدود کو جاننا کتنا زیادہ ضروری ہے۔ اس دنیا میں کوششوں کا نتیجہ خیز ہونا اس پر منحصر ہے کہ آدمی کو علم کے حدود معلوم ہوں۔ وہ کوئی عمل شروع کرتے ہوئے صحیح نقطہ آغاز کو جانتا ہو۔ اس کو واضح طور پر معلوم ہو کہ ایک بات اور دوسری بات میں کیا فرق ہے۔ ان چیزوں کی صحیح معرفت آدمی کے عمل کو نتیجہ خیز بناتی ہے اور جب ان چیزوں کے بارے میں صحیح معرفت حاصل نہ ہو تو بڑی سے بڑی کوشش بھی بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔ اس مثال سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ خدا کے پیغمبر کی رہنمائی انسان کے لئے کتنا زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ خدا جو کائنات کا خالق ہونے کی بنا پر اس کے تمام اسرار اور موز سے آخری حد تک واقف ہے وہ انسانوں میں سے ایک شخص کو چنتا ہے اور پھر اس کو وہ تمام بنیادی علوم دیتا ہے جو انسان کے لئے اس کی تعمیر کی راہ میں ضروری ہیں۔ یہ پیغمبر گویا خدائی گائیڈ ہے جس کی رہنمائی اس بات کو ممکن بناتی ہے کہ انسان معرفت کی پوری روشنی میں اپنے سفر حیات کا آغاز کرے اور دونوں دنیاؤں کی سعادت حاصل کر سکے۔ پیغمبر کے ذریعہ انسان کو کئی چیزیں ملتی ہیں۔ ان ملنے والی چیزوں میں سب سے پہلی چیز یقین ہے۔ یہ صرف خدا کے پیغمبر کی رہنمائی ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا آغاز یقین و اعتماد کے ساتھ کر سکے۔ انسان کو بہر حال ایک ایسے علم کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنے فکر و عمل کے لئے رہنمائی حاصل کرے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا نام فلسفہ کا آتا ہے۔ مگر فلسفہ خود ہی اس بات کا معترف ہے کہ ابھی وہ آخری حقیقت تک نہیں پہنچا، وہ ابھی تلاش کے مرحلہ میں ہے۔ ایسی حالت میں فلسفہ آدمی کو مذبذب تو دے سکتا ہے مگر اس کے لئے یقین کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader