Urdu book · مطالعہ سیرت

دورِ حاضر کے لئے پیغمبرانہ رہنمائی

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

سرمایہ مہیا نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد وہ علم ہے جس کو سائنس کہا جاتا ہے۔ مگر سائنس بھی خود اپنے اعتراف کے مطابق، یہ خدمت انجام نہیں دے سکتی۔ اس کا واضح سبب یہ ہے کہ سائنس بھی پیشگی طور پر یہ اعلان کررہی ہے کہ اس نے کائناتی علم کے صرف جزئی یا ظاہری حصہ کو اپنے مطالعہ کا موضوع بنایا ہے، بحیثیت مجموعی پورے کائناتی علم کی دریافت اس کے مطالعہ کا موضوع نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی سائنس انسانوں کو وہ ذہنی اور فکری سرمایہ نہیں دے سکتی جس کو یقین کہا جاتا ہے۔ ۱۹ ویں صدی میں سوشلزم کا تصور ابھرا جس نے بالآخر کارل مارکس (وفات ۱۸۸۳) کے نظریہ کی صورت میں ایک مکمل فلسفہ حیات کا درجہ حاصل کر لیا۔ ۱۹۱۷ء میں اس کے حامیوں نے اس نظریہ کی بنیاد پر روس میں ایک باقاعدہ حکومت قائم کرلی جو بعد کو سوویت یونین کی صورت میں ایک عظیم ایمپائر بن گئی۔ اس نظریہ کو اتنا زیادہ فروغ ہوا کہ دنیا کے بیشتر اذہان اس سے متاثر ہوگئے ۔ اس کا سحر لوگوں کے ذہن سے صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ خود سوویت یونین ۱۹۹۱ میں ٹوٹ کر بکھر گیا۔ میں خدا کے فضل سے سوویت یونین کے سقوط (۱۹۹۱) سے تقریباً ۳۵ سال پہلے اس موضوع پر اپنے تفصیلی مطالعہ کے ذریعہ اس حقیقت تک پہنچ چکا تھا کہ مارکسزم سراسر ایک بے حقیقت چیز ہے۔ اسی وقت میں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی جو پہلی بار اپریل ۱۹۵۹ء میں مکتبہ جماعت اسلامی رام پور سے شائع ہوئی اس کتاب کا نام یہ تھا: مارکسزم تاریخ جس کو رد کر چکی ہے ۱۹ ویں صدی کے نصف ثانی اور بیسویں صدی کے نصف اول تک پورے سو سال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page