دورِ حاضر کے لئے پیغمبرانہ رہنمائی
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح گزرے ہیں جب کہ ساری دنیا پر مارکسی سوشلزم ایک غالب فکر کی حیثیت سے چھایا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ امریکی مفکر گال بریٹھ کو یہ کہنے کی جرات ہوئی کہ مارکس کو موجودہ زمانہ میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ تاریخ کے تمام انسانوں سے زیادہ تھی حتی کہ محمد سے بھی زیادہ۔ مگر آج ہر شخص جانتا ہے کہ مارکسزم کا یہ افسانہ ختم ہو گیا۔ اب دنیا میں شاید دو آدمی بھی ایسے موجود نہیں جو مارکس سے وہ فکری غذائیں جن کے لئے یقین و اعتماد کے ہم معنی بن سکے۔ اس کے بعد مذاہب کا نمبر آتا ہے مذہب کیا ہے۔ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس علم کا نام ہے جو براہ راست خدا کی طرف سے آیا ہو۔ قرآن میں علم کی دو تقسیم کی گئی ہے، ایک تجرباتی علم اور دوسرے الہامی علم۔ قرآن کی مندرجہ ذیل آیت میں یہی بات کہی گئی ہے۔ ایتونی بكتب من قبل هذا أو أثرة من علم ان كنتم صادقين (الاحقاف (٤) میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آؤ۔ یا کوئی علم جو چلا آتا ہو، اگر تم سچے ہو۔ اصولی طور پر یہ بات درست ہے کہ مذہب سچائی کا ماخذ ہے اور انسان کو یقین کی نعمت دے سکتا ہے۔ مگر یہاں ایک تاریخی حقیقت انسان اور (باستثناء اسلام) مذہب کے درمیان حائل ہو گئی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مذاہب میں سے کوئی بھی مذہب تاریخی طور پر معتبر نہیں۔ اس وقت دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب ہیں (چھوٹے مذاہب ان کے علاوہ ہیں) مگر ان مذاہب کا حال یہ ہے کہ ان کے بارے میں وہ تاریخی شواہد موجود نہیں جو ان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader