دورِ حاضر کے لئے پیغمبرانہ رہنمائی
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
آزادی کا دور آیا تو اس معاملہ میں اپنے آزادانہ غور وفکر کے تحت انسان نے یہ رائے قائم کی کہ عورت اور مرد دونوں ہر اعتبار سے بالکل یکساں ہیں۔ دونوں کو سماجی سرگرمیوں میں بلا تفریق برابر کا موقع ملنا چاہیئے، اسی اصول پر وہ پورا معاشرہ قائم ہے جس کو جدید معاشرہ کہا جاتا ہے۔ مگر عورت اور مرد کی مساوات کے اس نظریہ نے تمام سماجی شعبوں کو غیر متوازن بنادیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں غیر معمولی تمدنی ترقیوں کے باوجود انسان کو امن اور سکون حاصل نہیں۔ اس کا سب سے بڑا سبب بلا شبہ یہی ہے کہ مرد وزن کی مطلق مساوات کے جدید نظریہ نے تمام انسانی تعلقات کو غیر متوازن بنادیا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب خاتون اسلام) اس معاملہ میں انسان اگر پیغمبر اسلام کی رہنمائی کو اختیار کرتا تو کبھی انسانی سماج عدم توازن کا شکار نہ ہوتا۔ پیغمبر اسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقتیں انسان پر کھولی ہیں ان میں سے ایک، فطرت کا قانون ہے۔ اس کے مطابق عورت اور مرد کی تخلیق اس طرح کی گئی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کو ایک ایسی چیز دی گئی ہے جو دوسرے کو حاصل نہیں۔ اس طرح دونوں مل کر ایک مجموعہ بناتے ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی پورے معنی میں مکمل نہیں مگر جب دونوں باہم مل جائیں تو ان کے ملنے سے ایک کامل مجموعہ وجود میں آتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے: (آل عمران ۱۹۵) یعنی تم ایک دوسرے کا جز ہو (بعضکم من بعض) یہی بات حدیث میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بتائی گئی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader