Urdu book · مطالعہ سیرت

مطالعہ سیرت

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر۔ مگر اس قسم کی بات سراسر بے بنیاد ہے۔ حضرت مسیح کے پیغام اور کردار کو جاننے کا پہلا ماخذ، علمی اعتبار سے، انجیل ہے۔ جب اس نقطۂ نظر سے انجیل کا مطالعہ کیا جائے تو وہ صریح طور پر اس کی تردید کرتی ہے۔ مثلاً انجیل کی روایت کے مطابق، حضرت مسیح نے فرمایا: یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں (متی ۱۰: ۳۴-۳۵) قرآن سے بھی مذکورہ نقطۂ نظر کی تردید ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی سورہ الصف کی آخری آیت کا مطالعہ کیجئے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا، کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار، پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی، پس وہ غالب ہوگئے (الصف ۱۴) اس آیت میں پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ حضرت مسیح کے ساتھیوں کی پیروی کریں۔ اس کے مطابق ، حضرت مسیح کی دعوت کے نتیجہ میں وہاں دو گروہ بن گئے۔ ایک انصار مسیح اور دوسرے اعداء مسیح۔ پھر ان دونوں کے درمیان مقابلہ ہوا جس کے نتیجہ میں قرآن کے مطابق، یہ واقعہ پیش آیا کہ اعداء مسیح کے اوپر انصار مسیح غالب آگئے۔ قرآن کی یہ شہادت واضح طور پر بتاتی ہے کہ حضرت مسیح کے یہاں بھی اسی طرح نرمی اور سختی دونوں کی تعلیم موجود تھی جس طرح وہ پیغمبر اسلام کے یہاں موجود ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page