مطالعہ سیرت
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
مطالعہ سیرت کا نذکورہ طریقہ نہ صرف بے اصل ہے بلکہ وہ امت کے درمیان غیر علمی طرزِ فکر پیدا کرنے والا ہے۔ ایسے طریق مطالعہ کے ماحول میں کبھی علمی اسلوب فروغ نہیں پاسکتا۔ سیرتِ رسول کی عظمت قرآن میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اور کارنامے کو نہایت پر عظمت انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : وما ارسلناك الا رحمة للعالمين (الانبیاء (۱۰۷) یعنی ہم نے تم کو سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اپنے مشن کے ذریعہ ایک ایسا کارنامہ انجام دیں گے جو دنیا کے تمام انسانوں کے لئے رحمت کا سبب بن جائے۔ اس سلسلہ میں یہاں دو اور آیتیں نقل کی جاتی ہیں : محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم تراهم ركعا سجدا يبتغون فضلا من الله ورضونا سيماهم في وجوههم من اثر السجود ذالك مثلهم في التوارة ومثلهم في الانجيل كزرع اخرج شطاه فآزروه فاستغلظ فاستوى على سوقه يعجب الزراع ليغيظ بهم الكفار وعد الله الذين امنوا وعملوا الصالحات منهم مغفرة واجرا عظيما (الفتح (۲۹) محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے ، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے سجدہ کے اثر سے، ان کی یہ مثال تو رات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader