مطالعہ سیرت
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
انکھوانکالا ، پھر اس کو مضبوط کیا ، پھر وہ موٹا ہوا، پھر اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا ، وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے تا کہ ان سے کافروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔ يريدون ان يطفوا نور الله بافواههم ويابى الله الا ان يتم نوره ولو كره الكفرون هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون ( التوبه ۳۲.۳۳ ) وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کئے بغیر ماننے والا نہیں، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ تا کہ اس کو سارے دین پر غالب کر دے خواہ یہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ قرآن کی ان آیتوں کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ کی بعثت کوئی سادہ بات نہ تھی۔ وہ ایک عظیم انقلابی منصوبہ تھا۔ آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کو ایک عظیم واقعہ ظہور میں لانا تھا، ایک ایسا واقعہ جو پوری انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دے۔ یہ آیتیں مزید یہ بتاتی ہیں کہ اس عظیم اور عالمی منصوبہ کے لئے مقدر ہے کہ وہ لازمی طور پر ظہور میں آئے۔ کسی کی مخالفت اس کو ظہور میں آنے سے روک نہیں سکتی۔ قرآن کا یہ اعلان انتہائی واضح ہے۔ اور چونکہ وہ ایک خدائی اعلان ہے اس لئے لازمی طور پر اس کو ظہور میں آنا چاہئے۔ مگر سیرت کی موجودہ کتابیں پیغمبر کے اس عظیم کارنامہ کی تصویر نظر نہیں آتیں۔ یہ کتابیں بظاہر اس سے کم دکھائی دیتی ہیں جیسا کہ انھیں مذکورہ قرآنی آیتوں کی روشنی میں دکھائی دینا چاہئے۔ خالص علمی اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader