Urdu book · مطالعہ سیرت

حیات رسول

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

جبرئیل آپ کے پاس آتے اور قرآن کا وہ جز آپ کو پڑھ کر سناتے۔ پیغمبر اسلام پہلے خود اس کو اچھی طرح یاد کر لیتے پھر اس کو بول کر لکھواتے۔ پیغمبر اسلام لکھنا نہیں جانتے تھے مگر آپ نے اپنے ساتھیوں میں سے بہت سے لوگوں کو اس کام کے لئے مقرر کر لیا تھا۔ یہ لوگ کاتبان وحی کہے جاتے۔ کوئی نہ کوئی کاتب وحی ہر وقت آپ کے پاس موجود رہتا تھا۔ تاکہ اترے ہوئے حصہ قرآن کو فوراً اسی وقت لکھ لے۔ اس معاملہ میں آپ اتنا زیادہ اہتمام کرتے تھے کہ ہجرت کے نازک سفر میں بھی ایک کاتب وحی ، ابو بکر صدیق ، کو آپ نے اپنے ساتھ رکھا۔ ان کے ساتھ دوسری ضروری چیزوں کے علاوہ قلم اور کاغذ بھی تھا تاکہ سفر کے دوران اگر قرآن کا کوئی حصہ اترے تو اسی وقت اس کو لکھ لیا جائے۔ کتابت کے ساتھ قرآن کی حفاظت کا دوسرا اہتمام یہ کیا گیا تھا کہ اکثر صحابہ قرآن کے اترے ہوئے حصہ کو یاد کر لیتے تھے اور اس کو روزانہ اپنی نمازوں میں پڑھتے تھے۔ اس طرح قرآن کی حفاظت بیک وقت دو طریقوں سے ہوتی رہی۔ ایک طرف اس کو اس زمانہ کے کاغذ پر لکھا جاتا تھا اور دوسری طرف اس کو یاد کر کے انسانی حافظہ میں محفوظ کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ جب پورا قرآن نازل ہو گیا تو جبریل پیغمبر اسلام کے پاس آئے۔ انہوں نے قرآن کی موجودہ ترتیب کے ساتھ سورۃ الفاتحہ سے لے کر سورۃ الناس تک پڑھ کر اس کو سنایا۔ پھر پیغمبر اسلام نے اسی ترتیب کے ساتھ تمام صحابہ کو پورا قرآن پڑھ کر سنایا۔ اس طرح صحابہ میں بہت سے لوگ ایسے ہو گئے جن کو قرآن موجودہ ترتیب کے ساتھ یاد تھا۔ وہ اس کو روزانہ نماز کے اندر اور نماز کے باہر پڑھتے اور دوسروں کو سناتے۔ اس طرح قرآن خود پیغمبر اسلام کی زندگی ہی میں اپنی موجودہ صورت میں مدون

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page