حیات رسول
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو گیا تھا۔ آپ کے بعد خلیفہ ابو بکر نے یہ کیا کہ اس مدون قرآن کو ایک جلد کی صورت میں تیار کروا دیا۔ پھر دھیرے دھیرے اس کی نقلیں تمام شہروں میں پھیل گئیں۔ نبوت ملنے کے بعد آپ کی زندگی بدل گئی۔ آپ نے غار حرا جانا چھوڑ دیا اور لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچانے میں مصروف ہو گئے۔ اس وقت مکہ میں شرک پھیلا ہوا تھا۔ آپ نے لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ شرک ایک بے اصل مذہب ہے۔ صحیح مذہب یہ ہے کہ آدمی ایک خدا کا پرستار بنے اور اسی کے احکام کو مانے۔ اور اسی کی مرضی کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ آخرت میں موحدانہ مذہب کی قیمت ہوگی، مشرکانہ مذہب آخرت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ اللہ موحدین کو جنت میں داخل کرے گا اور مشرکین کو جہنم میں۔ آپ کی دعوت کا طریقہ زیادہ تر یہ ہوتا تھا کہ آپ لوگوں سے مل کر انہیں قرآن کا کوئی حصہ سناتے۔ کبھی لوگوں کے مجمع میں جا کر یہ کہتے کہ لکھا الناس قولوالا الہ الا اللہ تفلحوا (اے لوگو، یہ کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تم فلاح پاؤ گے) اس طرح آپ شرک کے مقابلہ میں توحید کی دعوت دیتے رہے۔ شروع شروع میں آپ نے انفرادی دعوت کا طریقہ اختیار کیا۔ تقریباً تین سال کے بعد آپ نے کھل کر اعلان کے ساتھ لوگوں کو دعوت دی۔ اب لوگوں کی طرف سے مخالفت شروع ہو گئی۔ آپ توحید کی دعوت دیتے تھے۔ اس وقت مکہ کے لوگ، اور اسی طرح عرب کے تمام قبائل شرک کو اپنا مذہب بنائے ہوئے تھے۔ اس بنا پر ان لوگوں کی مخالفت فطری تھی۔ ان لوگوں کو محسوس ہوا کہ آپ ان کو ان کے آبائی مذہب سے ہٹانا چاہتے ہیں اور ان کو ایک نئے مذہب کا پیرو بنانا چاہتے ہیں۔ یہ بات ان کے لئے قابلِ برداشت نہیں ہو سکتی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader