حیات رسول
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
مزید یہ کہ مکہ والوں کے لئے شرک کا ایک تجارتی پہلو بھی تھا۔ مکہ میں زراعت یا اور کوئی ذریعہ معاش موجود نہ تھا۔ البتہ وہاں حضرت ابراہیم کا بنایا ہوا مقدس کعبہ تھا۔ مکہ کے سرداروں نے اس کعبہ میں عرب کے تمام قبائل کے بت رکھ دیئے تھے۔ جن کی تعداد ۳۶۰ تھی۔ عرب کے لوگ تقریباً سال بھر کعبہ کی اور ان بتوں کی زیارت کے لئے آتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف کعبہ میں نذرانے دیتے تھے بلکہ ان کی آمد سے مکہ کی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوتا تھا۔ ان دوگولہ اسباب سے مکہ کے بیشتر لوگ پیغمبرِ اسلام کے شدید مخالف بن گئے۔ تاہم مکہ کے سنجیدہ افراد نے آپ کے پیغام کی صداقت کو محسوس کیا۔ یہ لوگ دھیرے دھیرے اسلام قبول کرنے لگے یہاں تک کہ ۱۳ سال کے دعوتی عمل کے بعد مکہ اور اطراف مکہ کے تقریباً دو سوم مرد اور عورت اسلام میں داخل ہو گئے۔ مکہ کی سرداری قبیلہ قریش کے ہاتھ میں تھی۔ اس قبیلہ کے سردار مثلاً، ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ آپ کے شدید مخالف بن گئے۔ انھوں نے پہلے تو مخالفت کے ذریعہ کوشش کی کہ آپ کا دین وہاں پھیلنے نہ پائے۔ مگر انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی یہ کوشش زیادہ کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ اس دوران آپ کے چچا ابو طالب کا بھی انتقال ہو گیا جو قریش کے سردار بھی تھے اور آپ کے سر پرست اور حمایتی بھی۔ ابو طالب کی وفات کے بعد مکہ کے سرداروں کی دشمنی بہت بڑھ گئی۔ وہ بے روک ٹوک آپ کے خلاف کارروائیاں کرنے لگے۔ اس وقت آپ نے محسوس کیا کہ مکہ کے حالات اب آپ کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ چنانچہ آپ نے اپنے ساتھیوں کو اجازت دے دی کہ وہ وقتی طور پر مکہ کو چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش چلے جائیں۔ آپ نے اپنے لئے یہ فیصلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader