Urdu book · مطالعہ سیرت

حیات رسول

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

فرمایا کہ عرب کی ایک اور بستی طائف جائیں اور وہاں اپنے لئے حمایتی تلاش کریں۔ چنانچہ آپ مکہ سے سفر کر کے طائف گئے۔ اس سفر میں صرف آپ کے خادم زید آپ کے ساتھ شریک تھے۔ تاہم اس سفر کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ طائف کے سردار بھی مکہ والوں کی طرح آپ کے مخالف ہو گئے۔ انھوں نے آپ کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا۔ چنانچہ آپ طائف سے واپس ہو کر دوبارہ مکہ آگئے ۔ تاہم مکہ میں رہنے کے لئے کسی سردار کی حمایت ضروری تھی۔ ابھی جب کہ آپ مکہ کی سرحد پر تھے ، آپ نے اپنے خادم کے ذریعہ مکہ کے ایک مشرک سردار مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا اور یہ کہلایا کہ تم مجھ کو اپنی حمایت میں لے لو تا کہ میں مکہ میں قیام کر سکوں۔ عرب کے قدیم قبائلی نظام کے تحت ایسا کرنا ضروری تھا۔ مطعم بن عدی کی رضامندی سے آپ مکہ میں داخل ہوئے تاہم مکہ کے سرداروں کی مخالفت اتنی زیادہ بڑھ چکی تھی کہ آپ کے لئے مکہ میں رہنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ مکہ میں ۱۳ سال قیام کے بعد آپ خاموشی کے ساتھ مدینہ چلے گئے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے وہاں کے پہلے جمعہ میں جو پہلا خطبہ ارشاد فرمایا اس کو ابن ہشام نے پورا کا پورا نقل کیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: حمد و ثنا کے بعد آپ نے فرمایا کہ اے لوگو، اپنے آگے کے لئے بھیجو۔ جان لو کہ تمہارے اوپر ضرور موت کا وقت آئے گا اور پھر تم اپنی بکریوں کو اس طرح چھوڑ کر چلے جاؤ گے کہ ان کا کوئی چرواہا نہ ہو گا پھر ضرور ہر آدمی کا رب اس سے کہے گا، اور اس کے اور اس کے رب کے درمیان نہ کوئی ترجمان ہوگا اور نہ کوئی پردہ جو اس کو چھپائے۔ کیا تمہارے پاس میرا پیغمبر نہیں آیا، پھر اس نے تم کو میرا پیغام پہنچایا۔ اور میں نے تم کو مال دیا اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page