Urdu book · مطالعہ سیرت

حیات رسول

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

چھوٹی سی آبادی میں اچانک دو سو سے زیادہ آدمیوں کا اضافہ ہو گیا۔ یہ ایک بڑا سماجی مسئلہ تھا۔ آپ نے اس کے حل کے لئے وہ تدبیر فرمائی جس کو اسلام کی تاریخ میں مؤاخاۃ کہا جاتا ہے۔ اس کی صورت یہ تھی کہ آپ نے باہر سے آنے والے مہاجرین اور مدینہ میں رہنے والے انصار کے درمیان بھائی بھائی کا رشتہ قائم کر دیا۔ اس طرح ہر مہاجر کسی انصاری کے ساتھ اس کے گھر اور کاروبار میں بھائی کی طرح شریک ہو گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ لوگ سگے بھائی کی طرح مل جل کر رہتے تھے۔ ان کے درمیان کبھی کسی معاملہ میں جھگڑا نہیں ہوا۔ کچھ دنوں کے بعد اپنے آپ اس مؤاخاۃ کی ضرورت نہ رہی۔ باہر سے آنے والے مسلمان جن کو مہاجر کہا جاتا تھا، ان کو یہ پسند نہ تھا کہ وہ کسی اور کے اوپر بوجھ بنیں۔ چنانچہ ہر ایک سرگرمی کے ساتھ کسی نہ کسی کام میں لگ گیا۔ کسی نے مزدوری کی، کوئی زراعت اور تجارت میں مشغول ہو گیا۔ اس طرح تھوڑے دنوں کے بعد ان میں سے ہر ایک خود اپنی معاشی بنیاد پر کھڑا ہو گیا۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت کے مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین اور یہود بھی آباد تھے۔ پیغمبر اسلام نے اس مسئلہ کے حل کے لئے ایک منشور جاری کیا۔ جس کو عام طور پر صحیفہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ مدینہ میں چونکہ مسلمانوں کی اکثریت تھی، اس لئے آپ کی حیثیت وہاں مدینہ کے سردار یا حاکم کی ہو گئی۔ آپ نے اپنی اس حاکمانہ حیثیت کے تحت صحیفہ مدینہ میں یہ اعلان فرمایا کہ یہاں کے تمام لوگوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔ ہر ایک کو اس کے مذہب اور کلچر کی آزادی ہوگی۔ مسلمانوں کے معاملات شریعت کے مطابق طے کئے جائیں گے۔ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page