حیات رسول
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
مشرکین اور یہود کے معاملات ان کی اپنی روایات یا قبائلی رواج کے مطابق طے ہوں گے۔ مکہ کے برعکس، مدینہ آپ کی دعوت توحید کے لئے سازگار ثابت ہوا۔ آپ کی آمد سے پہلے ہی مدینہ میں اسلام داخل ہو چکا تھا۔ آپ کے یہاں آنے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا یہاں تک کہ تھوڑی مدت میں مدینہ کے بیشتر لوگ اسلام قبول کر کے آپ کے ساتھی بن گئے۔ یہ صورتِ مکہ کے سرداروں کو پسند نہیں آئی۔ انھیں یہ گوارہ نہیں ہوا کہ جس شخص کو انھوں نے مکہ سے نکال دیا تھا، وہ مدینہ پہنچ کر اپنے لئے ایک مضبوط مرکز بنالے اور آخر کار ان کے مذہبِ شرک کے لئے شدید تر خطرہ بن جائے۔ اپنے اس احساس کی بنا پر انھوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف جنگی اقدام کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے چاہا کہ جس مذہب کو عام مخالفت کے ذریعہ وہ ختم نہیں کر سکے تھے اس کو تلوار کی طاقت سے ختم کردیں۔ ہجرت کے بعد مکہ کے سرداروں نے جارحانہ کارروائیاں شروع کردیں۔ انھیں میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کو بدر الاولیٰ کہا جاتا ہے۔ تاہم پیغمبر اسلام اور مکہ کے سرداروں کے درمیان پہلا بڑا مقابلہ وہ ہے جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔ یہ جنگ مکہ کے سرداروں کی جارحیت کے نتیجہ میں پیش آئی۔ بدر کے مقام پر ۲ھ میں دونوں گروہوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ ہوا۔ خدا کی خصوصی مدد سے پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی کامیاب ہوئے۔ مکہ کے لوگ ستر کی تعداد میں مارے گئے اور اتنی ہی تعداد میں قیدی بنائے گئے۔ بدر کی شکست نے مکہ کے سرداروں کو اور زیادہ بھڑکا دیا۔ وہ اپنے عوام کو یہ کہہ کر ایک اور جنگ پر ابھارنے لگے کہ ہمیں اپنے بدر کے مقتولین کا انتقام لینا ہے۔ اس کے نتیجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader