حیات رسول
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کئی بار دونوں طرف کے لوگوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہوئیں۔ یہاں تک کہ ۲ ھ میں انھوں نے ایک بڑا لشکر تیار کیا اور اس کو لے کر مدینہ کی سرحد پر پہنچ گئے۔ یہاں احد پہاڑ کے پاس دونوں گروہوں کے درمیان شدید جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں پہلے اہل ایمان غالب آئے۔ اس کے بعد ایک غلطی سے فائدہ اٹھا کر مکہ کی فوج نے دوبارہ مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ اس دوبارہ حملہ میں اہل ایمان ٹھہر نہ سکے اسلامی فوج کے کئی لوگ قتل ہو گئے۔ آخر کار اہل مکہ کو فتح حاصل ہوئی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے محسوس کیا کہ بظاہر جنگ سے اس معاملہ کا فیصلہ ہونے والا نہیں۔ چنانچہ آپ نے ایک اور تدبیر اختیار کی۔ ۶ھ میں ایک خواب کے مطابق آپ نے اعلان فرمایا کہ ہم مکہ جائیں گے اور وہاں کعبہ کا طواف اور عمرہ کی عبادت ادا کریں گے۔ اس کے مطابق تقریباً چودہ سو ساتھیوں کے ہمراہ آپ مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ ایک پرامن سفر تھا۔ اور اس کا جنگ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مکہ میں اس طرح کے پرامن وفود کی آمد کوئی نئی بات نہ تھی۔ عرب کے مختلف قبائل کعبہ کی زیارت کے لئے برابر آتے رہتے تھے۔ مگر مکہ کے سرداروں کے لئے یہ چیز قابل برداشت نہ تھی۔ چنانچہ پیغمبر اسلام جب چلتے ہوئے حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مکہ کے سرداروں نے وہاں آکر آپ کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مکہ کے سرداروں نے اس کو اپنے وقار کے خلاف سمجھا کہ جن لوگوں کو انھوں نے مکہ سے نکال دیا ہے، وہ دوبارہ مکہ آئیں اور اس طرح نمایاں طور پر وہاں عمرہ کی رسم ادا کریں۔ اب پیغمبر اسلام حدیبیہ میں ٹھہر گئے اور مکہ کے سرداروں سے صلح کی گفتگو شروع کردی۔ اس گفتگو میں تقریباً ۱۵ دن لگ گئے۔ آخر کار دونوں فریقوں کے درمیان صلح کا وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader