Urdu book · مطالعہ سیرت

حیات رسول

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

معاہدہ ہوا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے اس معاہدہ میں مکہ والوں کی تمام شرطوں کو یکطرفہ طور پر منظور کر لیا۔ البتہ آپ کی تجویز پر اس میں ایک دفعہ یہ شامل کی گئی کہ آئندہ دس سال تک اہل اسلام اور قریشِ مکہ کے درمیان جنگ نہیں ہوگی، نہ براہِ راست اور نہ بالواسطہ۔ اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد آپ حدیبیہ سے مدینہ واپس آگئے۔ معاہدۂ حدیبیہ کے بعد جنگ کا خطرہ ٹل گیا اور آپ کو سکون حاصل ہو گیا۔ اب پیغمبرِ اسلام نے اپنی دعوت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا کام شروع کر دیا۔ اس سلسلہ کا ایک کام یہ تھا کہ آپ نے عرب کی سرحد پر بسنے والے حکمرانوں اور بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ فرمائے۔ مثلاً شام اور مصر وغیرہ کے حاکموں کے نام۔ آپ کے اصحاب آپ کے دعوتی خطوط کو لے کر ان حاکموں کے پاس گئے۔ ان میں سے صرف ایک نے آپ کے مکتوب کے ساتھ برا معاملہ کیا۔ یہ ایران کا بادشاہ کسریٰ تھا۔ اس نے ایسے ایک خط کو اپنی شان کے خلاف سمجھا اور اس کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ آپ کو جب یہ خبر بتائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ کسریٰ نے خود اپنی سلطنت کے ٹکڑے کر دیئے۔ اس کے علاوہ بقیہ حاکموں اور بادشاہوں نے آپ کے بھیجے ہوئے مکتوب کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کیا۔ کئی حاکموں نے آپ کے سفیروں کو تحفہ اور ہدیہ کے ساتھ واپس کیا۔ ان میں سے بعض نے اسلام قبول کر لیا، جیسے کہ حبش کا بادشاہ نجاشی۔ حدیبیہ کا معاہدہ اگرچہ بظاہر مکہ والوں کی موافقت میں تھا۔ مگر اس کا ایک عظیم فائدہ اسلام کے حق میں برآمد ہوا، وہ اس طرح کہ جب یہ مشہور ہو گیا کہ پیغمبرِ اسلام اور قریش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page