Urdu book · مطالعہ سیرت

حیات رسول

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

مکہ کے درمیان نا جنگ معاہدہ ہو گیا ہے تو دونوں فریقوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان کھلی آمد و رفت ہونے لگی۔ مکہ اور دوسرے عرب قبائل کے لوگ مدینہ آنے لگے۔ اسی طرح مدینہ کے مسلمان دوسرے مشرک قبائل میں جانے لگے۔ اس آزادانہ اختلاط کے دوران اپنے آپ ایسا ہوا کہ اسلام زیر بحث آنے لگا۔ اہل شرک اور اہل توحید کے درمیان کھلے طور پر چرچا ہونے لگا۔ اس کے نتیجہ میں اسلام کی دعوت نہایت تیزی کے ساتھ ہر طرف پھیل گئی۔ عرب کے لوگ اسلام کی خوبیوں سے واقف ہو کر بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ صرف دو سال کے اندر اہل اسلام کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ اب ایسا ہوا کہ قریش مکہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ایک حلیف قبیلہ کے خلاف جارحانہ کارروائی کی۔ یہ معاملہ حدیبیہ کے معاہدہ کے سراسر خلاف تھا۔ اس واقعہ کے بعد آپ نے معاہدہ حدیبیہ کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد آپ اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ حدیبیہ کے سفر کے وقت آپ کے ساتھ صرف چودہ سو آدمی تھے۔ اس کے مقابلہ میں موجودہ سفر میں آپ کے ساتھیوں کی تعداد دس ہزار تھی۔ عددی طاقت میں یہ اضافہ اتنا زیادہ تھا کہ مکہ کے لوگ اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ چنانچہ انھوں نے مقابلہ کے بغیر ہار مان لی، اور کسی جنگ کے بغیر مکہ ہو گیا۔ یہ واقعہ ٨ھ کا ہے۔ مکہ کے مشرکین نے پیغمبر اسلام کی نہایت شدید مخالفت کی تھی۔ وہ آپ کے قتل کے درپے ہو گئے تھے۔ انھوں نے آپ کو جنگوں میں الجھایا۔ اس طرح کی مختلف سنگین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page