حیات رسول
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادتیوں کے بعد ان کی حیثیت بدترین مجرم کی ہو چکی تھی۔ حتی کہ اگر یہ لوگ قتل کر دیئے جاتے تو ان کے جرائم کے اعتبار سے یہ ایک جائز فعل ہوتا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے بلند اخلاقی سے کام لیتے ہوئے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ حتی کہ آپ نے ان کو ملامت بھی نہیں فرمائی۔ آپ نے یکطرفہ طور پر ان سب کی معافی کا اعلان کر دیا اور کہا کہ جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو۔ اس وقت کے حالات میں یہ ایک غیر معمولی سلوک تھا۔ مکہ کے مشرکین یہ سمجھے ہوئے تھے کہ فتح کے بعد اب انھیں ان کے ناقابل معافی جرائم کی بنا پر قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے بلاشرط ان سب کو معاف کر دیا۔ اس غیر معمولی سلوک نے ان کے ضمیر کو بری طرح جھنجھوڑ دیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اب سرکشی کا طریقہ ان کے لئے کسی بھی طرح جائز نہیں۔ اتنے بڑے انسانی سلوک کے بعد اب انھیں پیغمبر اسلام کے دین میں داخل ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مکہ کے تمام لوگ اسلام قبول کر کے آپ کے ساتھی بن گئے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام نے مکہ میں ایک شخص کو اپنی طرف سے حاکم مقرر فرمایا اور پھر مکہ سے طائف کی طرف روانہ ہوئے۔ اس سفر میں آپ کے ساتھ دس ہزار سے زیادہ آدمی تھے۔ راستہ چلتے ہوئے آپ اس مقام پر پہنچے جس کو قدیم زمانہ میں حنین کہا جاتا تھا۔ یہاں آپ کا راستہ دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزرتا تھا۔ پہاڑیوں کے اوپر قبیلہ ہوازن کے لوگ آباد تھے۔ آپ خاموشی کے ساتھ اپنا راستہ طے کر رہے تھے کہ اچانک قبیلہ ہوازن کے لوگوں نے اس وقت آپ کے اوپر تیروں سے حملہ کر دیا جب کہ آپ اور آپ کے ساتھی دونوں پہاڑیوں کے درمیان تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader