حیات رسول
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ اور آپ کے ساتھی اس اچانک حملہ کے لئے تیار نہ تھے۔ چنانچہ ابتدائی مرحلہ میں بھگدڑ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ مگر پیغمبر اسلام اپنی جگہ جمے رہے۔ آپ نے پکار کر کہا کہ اے اللہ کے بندو، میری طرف آؤ (الی عباد اللہ) اس آواز کو سن کر لوگوں کو ہوش آیا۔ وہ دوبارہ پلٹ کر آگے اور پھر جم کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو فتح حاصل ہوئی۔ اس واقعہ کو اسلامی تاریخ میں غزوہ حنین کہا جاتا ہے۔ اس فتح کے بعد قبیلہ ہوارن کے چھ ہزار آدمی گرفتار کر لئے گئے۔ بہت بڑی تعداد میں اونٹ اور بکری وغیرہ مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوا۔ یہ چھ ہزار قیدی ثابت شدہ طور پر جنگی مجرم کی حیثیت رکھتے تھے۔ عام رواج کے مطابق وہ اس قابل تھے کہ ان کو قتل کر دیا جائے ۔ لیکن پیغمبر اسلام نے ان سب کو بلاشرط معاف کر کے رہا کر دیا۔ آپ کا یہ غیر معمولی سلوک ان لوگوں کے لئے بے حد اثر انگیز تھا۔ چنانچہ قبیلہ ہوارن کے تمام مرد اور عورت اسلام قبول کر کے آپ کے دین میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد آپ طائف کی طرف بڑھے۔ طائف قدیم عرب کا واحد ایسا شہر تھا جس کے چاروں طرف حصار کے لئے دیواریں بنائی گئی تھیں۔ طائف والوں نے حصار کے دروازے بند کر لئے۔ اس طرح وہ قلعہ کی مانند محفوظ ہو گئے۔ پیغمبر اسلام نے طائف میں زیادہ قیام نہیں فرمایا بلکہ انھیں ان کے حال پر چھوڑ کر مدینہ واپس آگئے۔ قدیم عرب میں مکہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ لوگوں نے مکہ کو قائدانہ مقام دے رکھا تھا۔ اب مکہ فتح ہو گیا اور وہاں کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ چنانچہ وہاں پیغمبر اسلام کا اقتدار قائم ہو گیا۔ اس کے بعد ساری صورت حال بدل گئی۔ اب عرب کے قبائل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader