حیات رسول
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
نے محسوس کیا کہ انہیں بھی وہی دین اختیار کر لینا چاہئے جو مکہ والوں کا دین ہے یعنی اسلام۔ اس کے بعد پورے عرب میں ایک نیا عمل شروع ہو گیا۔ وہ یہ کہ ملک کے مختلف حصوں میں بسنے والے قبائل وفد کی شکل میں اپنے نمائندے مدینہ بھیجنے لگے تا کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں اور پیغمبر اسلام سے نیا عہد کر کے اسلامی ریاست کے ساتھ اپنے تعلقات کو درست کریں۔ اس سال اس طرح کے وفد اتنی زیادہ تعداد میں آئے کہ اس سال کو عام الوفود کہا جانے لگا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک تمام قبیلے اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے ۔ انھیں میں سے ایک طائف کا قبیلہ بھی تھا۔ عرب میں اسلام کی طاقت کو مستحکم کرنے کے بعد آپ نے حج کا ارادہ فرمایا۔ اس کو اسلام کی تاریخ میں حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اپنی عمر کے آخری سال آپ مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ اس سفر میں مدینہ کے مسلمان آپ کے ساتھ ہو گئے۔ اس کے علاوہ جب ملک میں خبر پھیلی تو چاروں طرف سے مختلف قبائل کے افراد مکہ آنے لگے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام نے اپنا پہلا اور آخری حج ادا فرمایا تو اس وقت تقریباً سوا لاکھ آدمی اس عظیم عبادت میں آپ کے ساتھ شریک تھے۔ اس حج کے موقع پر آپ نے لوگوں کو جو تعلیمات دیں ان میں سے ایک آپ کا وہ خطبہ تھا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ یہ خطبہ گویا اسلام کا ابدی منشور تھا۔ اس خطبہ میں آپ نے فرمایا: بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تمہارے اوپر حرام ہیں، جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں حرام ہے۔ سن لو کہ جاہلیت کے معاملہ کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے ہے اور جاہلیت کے تمام خون باطل کر دئے گئے اور سب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader