Urdu book · مطالعہ سیرت

حیات رسول

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

سنو میرے بعد منکر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ سنو شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں، لیکن آپس میں تم کو برانگیختہ کر کے وہ اپنا مقصد حاصل کرے گا۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیوں کہ وہ تمہاری دست نگر ہیں۔ وہ اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتیں اور تمہارے اوپر ان کا حق ہے اور ان کے اوپر تمہارا حق۔ سنو، جس کے پاس کوئی امانت ہو تو وہ اس کو صاحبِ امانت کو واپس کر دے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا کیا میں نے پہنچا دیا۔ کیا میں نے پہنچا دیا۔ پھر آپ نے کہا جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہنچا دے کیونکہ بہت سے وہ لوگ جنہیں پہنچایا جائے وہ سننے والوں سے زیادہ اخذ کرنے والے ہوتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے ۱۲ ربیع الاول اھ کو ہوئی ۔ آخری زمانہ میں آپ تقریباً دو ہفتہ بیمار رہے۔ وفات سے پہلے آپ نے مسجد نبوی میں جو آخری نماز ادا فرمائی اس میں اپنی موجودگی میں حضرت ابو بکر صدیق کو نماز کا امام بنایا۔ اسلام میں نماز باجماعت کے امام کی جو اہمیت ہے اس کے لحاظ سے یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ میرے بعد ابو بکر مسلمانوں کے خلیفہ یا امیر المومنین ہوں گے۔ آخری زمانہ میں آپ نے جو باتیں فرمائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ : ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بهما کتاب الله وسنة رسوله (میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں۔ تم اس وقت تک گمراہ نہ ہو گے جب تک تم ان دونوں کو پکڑے رہو گے۔۔۔ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت) مشکوۃ المصابیح ار ۲۶ آپ کی وفات مسجد نبوی کے حجرہ میں ہوئی۔ اسی حجرہ میں آپ کی تدفین کی گئی۔ چنانچہ آج تک آپ کی قبر وہاں موجود ہے۔ بعد کو آپ کے خلفاء حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فاروق کی وفات ہوئی تو ان کی تدفین بھی اسی مقام پر آپ کی قبر کے دونوں طرف ہوئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page