قرآنی تصویر
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
چھڑ کو۔ اور تم اپنے رب کی نعمت بیان کرو (الضحیٰ ۱۱۔۱) پیغمبر اسلام ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ اس سے پہلے آپ کی جو زندگی تھی وہ قرآن کے اس بیان (ووجدك ضالاً) سے معلوم ہوتی ہے۔ اس کی تشریح میں علماء کے جو اقوال تفسیر کی کتابوں میں آئے ہیں ان میں چند یہ ہیں۔.......... ووجـدك طالباً، ووجـدك متحيرأ، ووجـدك محبـاً للهداية(التفسير القرطبي ۹۷/۲۰) اس حالت کو ایک لفظ میں، تلاش حق کہا جا سکتا ہے۔ گویا کہ پیغمبر بنائے جانے سے پہلے آپ ایک متلاشی حق (Truth seeker) تھے ۔ آپ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ اس زمانہ میں آپ بستی سے نکل کر صحرا اور پہاڑ کی طرف چلے جاتے، غار حراء کی تنہائی میں قیام فرماتے، خاموشی کے ساتھ غور و فکر میں مشغول رہتے۔ یہ سب آپ کی اسی تلاش حق کے مظاہر تھے جن کا تذکرہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق کی دریافت سے پہلے کسی آدمی کے لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ حق کی تلاش میں ہو۔ جو آدمی فی الواقع سچائی کی تلاش میں سرگرداں ہو گا اس کو اسی طرح ہدایت ملے گی جس طرح قرآن کے مطابق، محمد ﷺ کو ملی۔ فرق صرف یہ ہے کہ آپ کو ہدایت کے ساتھ نبوت بھی دی گئی اور دوسرے انسانوں کو صرف ہدایت ملے گی۔ بشریت رسول قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ آپ کی امتیازی خصوصیت یہ نہیں تھی کہ آپ غیر بشر تھے۔ بلکہ آپ کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ آپ بشر ہونے کے ساتھ ایک پیغمبر بھی تھے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی چند آیتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader