Urdu book · مطالعہ سیرت

قرآنی تصویر

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

هل كنت الا بشرا رسولا(الاسراء) قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد (الكهف ۱۱۰) قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى (حم السجده ٦) قالت لهم رسلهم ان نحن الا بشر مثلكم (ابراهيم ۱۱) ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔ پیغمبر اسلام کو تمام انسانوں کے لئے عملی نمونہ کی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ آپ لوگوں کے لئے عملی نمونہ صرف اس وقت ہو سکتے ہیں جب کہ آپ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہوں۔ آپ کے اندر بھی وہی احساسات ہوں جو دوسرے انسان کے اندر ہوتے ہیں۔ آپ کی فطرت کے اجزاء بھی وہی ہوں جو دوسرے انسانوں کی فطرت کے اجزا ہیں۔ آپ بھی اسی گوشت پوست کا مجموعہ ہوں جس کا مجموعہ ایک عام انسان ہوتا ہے۔ اگر یہ یکسانیت نہ ہو تو یہ حکم ایک غیر عملی حکم بن جائے گا کہ اے لوگو، تم پیغمبر خدا کے نمونہ کی پیروی کرو۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اسی میں تھی کہ آپ بشر ہوتے ہوئے اعلیٰ اخلاق کو اپنے ذہن میں جگہ دیں۔ اعلیٰ اخلاق کو اپنا اخلاق بنائیں۔ ہر معاملہ میں اعلیٰ روش کا ثبوت دیں۔ اگر آپ غیر بشر ہوتے تو آپ کا یہ غیر معمولی کردار عظیم کردار نہیں بن سکتا تھا۔ رسول ایک آزمائش قرآن کی سورہ نمبر ۶ میں پیغمبر کے مخالفین کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ...... اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملہ کا فیصلہ ہو جاتا پھر انہیں مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی آدمی بناتے اور ان کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page