Urdu book · مطالعہ سیرت

قرآنی تصویر

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ۔ (الأنعام ۸ - ۹) اس طرح مخالفین رسول کے تذکرہ کے تحت قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ کہتے ہیں کہ وہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ رہ کر ڈر اتا یا اس کے لئے کوئی خزانہ اتارا جاتا۔ یا اس کے لئے کوئی باغ ہو تا جس سے وہ کھاتا (الفرقان ۷ ۔ ۸) اسی طرح دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ان کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے ان کے سوا اور کوئی چیز مانع نہیں ہوئی کہ انھوں نے کہا کہ کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ (بنی اسرائیل ۹۴) ان آیتوں کو سمجھنے کے لئے اس اصول کو استعمال کرنا چاہئے جس کو ایک عربی مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : تعرف الاشیاء باضدادھا (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس اصول کے مطابق غور کیجئے تو پیغمبر اسلام (نیز دوسرے پیغمبروں) کی دو، ایک دوسرے کے بالکل مختلف، تصویریں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ ایک وہ مذکورہ قرآنی آیتوں کے مطابق، پیغمبر کے ہم عصر مخاطبین کے سامنے تھی۔ دوسری تصویر وہ تھی جو پیغمبر اسلام کے ظہور کے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال بعد آج کے لوگوں کو دکھائی دیتی ہے۔ قدیم تصویر میں پیغمبر صرف ایک عام انسان دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس آج کی تصویر اتنی عظیم ہے کہ تذکرہ کرنے والے جب آپ کا تذکرہ کرتے ہیں تو وہ لغت کے آخری اور انتہائی الفاظ آپ کے لئے استعمال کرتے ہیں مثلاً فخر موجودات، شہنشاہ کونین، سرور کائنات، محسن انسانیت، تاجدار عرب، آقائے نامدار وغیرہ۔ ایک ہی شخصیت کی دو مختلف تصویر کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر جب آتا ہے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page