قرآنی تصویر
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ اپنے ہم عصروں کے لئے اپنے مجرد روپ میں ہوتا ہے۔ مگر سیکڑوں سال بعد ایسا ہوتا ہے کہ پیغمبر کی شخصیت کے ساتھ اس کے گرد بننے والی بعد کی تاریخ شامل ہو جاتی ہے۔ پہلی تصویر میں پیغمبر اپنی تاریخ کے بغیر ہوتا ہے، اور دوسری تصویر میں پیغمبر اپنی تاریخی عظمتوں کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو مثل صحابہ ایمان ہو۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ پھر اگر وہ ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو بیشک وہ راہ پاگئے۔ اور اگر وہ پھر جائیں تو اب وہ ضد پر ہیں۔ پس تمہاری طرف سے اللہ اس کے لئے کافی ہے اور وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے (البقرہ ۱۳۷) صحابہ ان اہل ایمان کو کہا جاتا ہے جو پیغمبر کے ہم زمانہ تھے۔ ان اہل ایمان نے پیغمبر کو اس کی ابتدائی تصویر کے ساتھ دیکھا۔ انھوں نے پیغمبر کو اس وقت پہچانا جب کہ اس کی ذات کے ساتھ تاریخ کی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں جب کہ بظاہر وہ عام انسانوں جیسا ایک انسان تھا نہ کہ وہ غیر معمولی انسان جس کو آج مذکورہ قسم کے بڑے بڑے القاب کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ پیغمبر کی پہلی تصویر ہی اس کی حقیقی تصویر ہے۔ بقیہ چیزیں مابعد تاریخ کے اضافے ہیں۔ ایمان بالرسول کا کریڈٹ صرف اس شخص کو مل سکتا ہے جو پیغمبر کو اس کے مجرد روپ میں دریافت کرے، جو تاریخ کو حذف کر کے پیغمبر کو اس کی اصل صورت میں پہچان لے۔ علم غیب قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، اللہ کے سوا کوئی غیب دانی کی صفت نہیں رکھتا جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: عالم الغیب فلا یظهر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader