قرآنی تصویر
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
علی غيبه احداً (الجن ٢٦) پیغمبر اسلام کے بارے میں قرآن میں بار بار صراحت کی گئی ہے کہ آپ کو علم غیب نہیں دیا گیا ہے۔ بعض مواقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کے ذریعہ کچھ باتیں پیشگی طور پر آپ کو بتا دیں۔ مثلاً حدیبیہ کا نتیجہ فتح مبین کی صورت میں ظاہر ہونا (الفتح ۱) مگر عمومی اور ذاتی صفت کے طور پر آپ کو غیب داں نہیں بنایا گیا۔ اس سلسلہ میں قرآن کی چند آیتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں : ولو كنت اعلم الغيب لاستكثرت من الخير (الاعراف ١٨٨) ولا اقول لكم عندی خزائن الله ولا اعلم الغيب (هود (۳۱) فقل انما الغيب لله فانتظروا انی معكم من المنتظرین (یونس (۲۰) تلك من انباء الغيب نوحيها اليك ما كنت تعلمها (هود (٤٩) یہ اور اس قسم کی دوسری آیتیں صراحت کے ساتھ یہ ثابت کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو غیب کا علم حاصل نہ تھا۔ پیغمبر کے لئے اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اس کو وہی چیزیں دی جاتی ہیں جس کی اسے پیغمبرانہ ذمہ داری ادا کرنے کے لئے ضرورت ہو، اور اس کام کا غیب دانی سے کوئی تعلق نہیں۔ پیغمبر کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ غیب کی باتیں بتا کر لوگوں کو متغیر کرے یا اس قسم کے کارنامے دکھا کر لوگوں کے اوپر اپنی برتری قائم کرے بلکہ وہ دعوت اور نصیحت کے ذریعہ لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہی پیغمبر کا اصل کام ہے اور اس کام کے لئے غیب دانی کی کوئی شرط نہیں ، اس لئے کسی پیغمبر کو غیب داں بھی نہیں بنایا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader