قرآنی تصویر
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
عصر میں بسر قرآن کی سورہ نمبر ۹۵ میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ...... کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا۔ اور تمہارا وہ بوجھ اتار دیا جس نے تمہاری پیٹھ جھکا دی تھی۔ اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا۔ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ پھر جب تم فارغ ہو جاؤ تو محنت کرو۔ اور اپنے رب کی طرف توجہ رکھو۔ (الانشراح ۸-۱) ان آیات کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا ایک خاص پہلو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی توفیق سے اور اللہ کی رہنمائی کے تحت آپ نے اپنے اندر یہ استعداد پیدا کی کہ آپ مشکل میں آسانی کو دیکھیں۔ ناموافق حالات کو عزم وہمت کے ساتھ موافق حالات میں بدلنے کی کوشش کریں۔ مایوسی کے مواقع پر بھی امید کے ساتھ اپنا عمل جاری رکھیں ۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالی نے یہاں چند مثالوں کے ذریعہ اس معاملہ کو واضح فرمایا ہے۔ مثلاً یہ کہ پیغمبر اسلام کو سختیوں کا تجربہ ہوا۔ ان سختیوں نے آپ کے ذہن کو کھولا اور آپ کو شرح صدر کی نعمت حاصل ہوئی۔ اسی طرح آپ کے مخالفین نے آپ کے خلاف طرح طرح کی غلط باتیں پھیلائیں۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ مخالفین کا یہ پروپیگنڈہ آپ کے مشن کے لئے عمومی چرچا کا ذریعہ بن گیا وغیرہ۔ پیغمبر اسلام کے پیروؤں کو اپنے اندر یہی ذہن پیدا کرنا چاہئے۔ ان کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ ”نہیں“ میں ”“ کو دیکھیں، وہ مشکل کو آسانی میں بدل سکیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader