Urdu book · مطالعہ سیرت

قرآنی تصویر

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

رزق رب قرآن کی سورہ نمبر ۲۰ میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ...... اور ہرگز ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ جن کو ہم نے ان کے کچھ گروہوں کو ان کی آزمائش کے لئے انھیں دے رکھا ہے۔ اور تمہارے رب کا رزق زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ اور اپنے لوگوں کو نماز کا حکم دو اور اس کے پابند رہو۔ ہم تم سے کوئی رزق نہیں مانگتے رزق تو تم کو ہم دیں گے اور بہتر انجام تو تقویٰ کے لئے ہی ہے۔ (طہ ۱۳۲- ۱۳۱) پیغمبر اسی دنیا میں رہتا ہے جس میں عام لوگ زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن عام انسان اس کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں کہ وہ دنیا کا سامان زیادہ سے زیادہ اپنے لئے اکٹھا کریں تو پیغمبر کو اس طرح زندگی گزارنا ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں رہے مگر وہ دنیا کو اپنا مقصود نہ بنائے۔ وہ دنیا سے رزق مادی کا طالب نہ ہو بلکہ وہ اسے رزق ربانی کا ذریعہ بنالے۔ دنیا میں ایک شخص ایمان اور دعوت کی زندگی اختیار کرتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اس کی زندگی مشقتوں کی زندگی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ حال ہے کہ جو لوگ اس قسم کی ذمہ داری سے آزاد ہیں وہ آرام اور راحت میں اپنے صبح شام گزارتے ہیں۔ اس صورت حال کو نمایاں کر کے شیطان آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ مومن اور داعی کو متزلزل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن گہرائی سے دیکھا جائے تو اس ظاہری فرق کے آگے ایک اور فرق ہے اور وہ فرق زیادہ قابل لحاظ ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ دنیا پرست لوگوں کو جو چیز ملی ہے وہ محض امتحان کے لئے ہے اور سراسر وقتی ہے۔ اس کے بعد اس ابدی زندگی میں ان کے لئے کچھ نہیں۔ مومن اور داعی کو خدا سے وابستگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں جو چیز ملتی ہے وہ تمام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page