Urdu book · مطالعہ سیرت

قرآنی تصویر

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

ويز يكيهم انك انت العزيز الحكيم (البقره ۱۲۹) اس آیت کے مطابق ، پیغمبر کا پہلا کام تلاوت آیات ہے۔ آیت کے معنی نشانی کے ہیں۔ یعنی وہ چیز جو کسی چیز کے اوپر دلیل بنے۔ انسان کی فطرت میں اور باہر کی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کی بیشمار نشانیاں رکھ دی ہیں۔ یہ اشارات کی صورت میں ہیں۔ پیغمبر ان اشارات کو کھولتا ہے۔ وہ آدمی کو ایسی نگاہ دیتا ہے جس سے وہ ہر چیز میں اپنے رب کا جلوہ دیکھنے لگے۔ کتاب سے مراد قرآن ہے۔ نبی کا دوسرا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی وحی کا مہبط بنتا ہے اور اس کو خدا سے لے کر انسان تک پہنچاتا ہے۔ حکمت کا مطلب ہے بصیرت۔ جب آدمی خدا کی نشانیوں کو دیکھنے کی نظر پیدا کرلیتا ہے، جب وہ اپنے ذہن کو قرآن کی تعلیمات میں ڈھال لیتا ہے تو اس کے اندر ایک فکری روشنی جل اٹھتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو حقیقتِ اعلیٰ کے ہم شعور بنالیتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں اس صحیح فیصلہ تک پہنچ جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ تزکیہ کا مطلب ہے کسی چیز کو غیر موافق عناصر سے پاک کر دینا تا کہ آدمی موافق فضا میں اپنے فطری کمال کو پہنچ سکے۔ نبی کی آخری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسے انسان تیار ہوں جن کے سینے اللہ کی عقیدت کے سوا ہر عقیدت سے خالی ہوں۔ ایسی روحیں وجود میں آئیں جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوں، ایسے افراد پیدا ہوں جو کائنات سے وہ ربانی رزق پا سکیں جو اللہ نے اپنے مومن بندوں کے لئے رکھ دیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page