قرآنی تصویر
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ چار کام پیغمبر اسلام کے مشن کے چار بنیادی اجز ا تھے۔ آپ کی تمام سرگرمیاں انھیں چاروں چیزوں کی تفصیل ہیں۔ آپ کے بعد آپ کی پیروی میں جو لوگ انسانیت کی اصلاح کے لئے اٹھیں، ان کو بھی انھیں خطوط پر کام کرنا ہے جن پر پیغمبر اسلام نے خدا کی رہنمائی میں کام کیا ہے۔ دعوت الی اللہ قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اے رسول، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے اس کو پہنچادو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ اللہ یقینا منکر لوگوں کو راہ نہیں دیتا (المائدہ ۶۷) اس آیت کے مطابق، پیغمبر کا اصل کام تبلیغ ما انزل اللہ تھا۔ اس کام کے بیک وقت دو پہلو تھے۔ ایک یہ کہ اس کو انجام دینا اپنے پیغمبرانہ فریضہ کو انجام دینا تھا۔ دوسرے یہ کہ یہی کام پیغمبر کے لئے لوگوں سے حفاظت کا ذریعہ بھی تھا۔ جب بھی پیغمبر اپنے ماحول میں حق کی بے آمیز دعوت پیش کرتا ہے تو اس کو مخاطبین کی طرف سے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رد عمل موجودہ اصطلاح میں سیکولر لوگوں کی طرف سے پیش نہیں آتا، بلکہ بیشتر حالت میں وہ ان لوگوں کی طرف سے پیش آتا ہے جو مذہب کے نام پر اپنی پیشوائی اور قیادت قائم کئے ہوئے ہوں۔ مخاطبین کی طرف سے یہ رد عمل ایک فطری چیز ہے کیوں کہ پیغمبر کی بے آمیز دعوت ان لوگوں کو بے اعتبار ثابت کرنے کے ہم معنی ہوتی ہے جو خود ساختہ مذہب کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہوں۔ داعی حق کو بہر حال اس صورت حال سے سابقہ پیش آتا ہے۔ مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader