قرآنی تصویر
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا اثر اسی دائرہ تک محدود رہتا ہے جتنا خدا کے قانون آزمائش کا تقاضا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ مخالفین اس حد تک قابو یافتہ ہو جائیں کہ وہ دعوتی مہم کو روک دیں یا اس کو اپنی تکمیل تک پہنچنے نہ دیں۔ ایک سچی دعوت کا اپنے دعوتی نشانہ تک پہنچنا ایک خدائی منصوبہ ہوتا ہے اس لئے وہ لازماً پورا ہو کر رہتا ہے۔ اس کے بعد مدعو گروہ کا ماننا اس کی اپنی ذمہ داری ہے جو اس کے بقدر نتیجہ خیز ہوتی ہے جتنا مدعو خود چاہتا ہے۔ یکطرفہ خیر خواہی احد کی جنگ (۳ھ) میں مخالفین اسلام کی تعداد اور غیر مناسب طور پر زیادہ تھی۔ چنانچہ اس جنگ میں مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔ خود پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ مخالف لشکر کی طرف سے آپ کو پتھر مارے گئے۔ آپ زخمی ہو کر لہولہان ہو گئے۔ اس نازک موقع پر آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : كيف يفلح قوم فعلوا هذا بنبيهم وهو يدعو هم الى ربهم عز وجل ۔ یعنی وہ لوگ کیسے فلاح پائیں گے جنھوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا سلوک کیا، حالانکہ وہ ان کو ان کے رب کی طرف بلارہا ہے (تفسیر ابن کثیر ار ۴۰۳) یہ پیغمبر کے ساتھ ایک کھلا ہوا ظلم کا واقعہ تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ چنانچہ اسی وقت جبریل خدا کی طرف سے یہ آیت لے کر نازل ہوئے: ليس لك من الا مر شئى او يتوب عليهم او يعذبهم فانهم ظالمون ۔ تم کو اس امر میں کوئی دخل نہیں۔ اللہ ان کی توبہ قبول کرنے یا ان کو عذاب دے، کیوں کہ وہ ظالم ہیں (آل عمران (۱۲۸) اس کے مطابق، پیغمبر کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ جن لوگوں کو حق کی دعوت دے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader