قرآنی تصویر
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
رہا ہے ان کا وہ یکطرفہ طور پر خیر خواہ بنے یہاں تک کہ اگر وہ اس کو اپنے ظلم و زیادتی کا شکار بنائیں تب بھی وہ یکطرفہ طور پر ان کا ہمدرد و خیر خواہ بنارہے۔ وہ پتھر مارنے والوں کے حق میں دعائیں دے۔ وہ سرکشی کرنے والوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے۔ وہ نفرت کرنے والوں کے ساتھ شفقت و محبت کے ساتھ پیش آئے۔ مدعو کے انجام کو خدا پر ڈالتے ہوئے آخر وقت تک وہ ان کی نصیحت کرتا رہے۔ پیغمبر کا یہی نمونہ ہر داعی کو اپنے مدعو کے ساتھ اختیار کرنا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور روش کسی داعی حق کے لئے جائز نہیں۔ مثبت ردعمل قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اچھے طریقہ سے بحث کرو۔ بے شک تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ پر چلنے والے ہیں (النحل ۱۲۵) اسی طرح دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ۔۔۔۔۔۔ اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (حم السجده ۳۳-۳۴) ان دونوں آیتوں سے پیغمبر اسلام کا داعیانہ کردار معلوم ہوتا ہے۔ دعوت کا پیغام ایک قول احسن ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ ایک ایسا کلام ہے جس میں انسان کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader