Urdu book · مطالعہ سیرت

قرآنی تصویر

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

رحمت کے سوا اور کچھ نہیں۔ لیکن دعوت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے، وہ ایک زندگی کو چھوڑ کر دوسری زندگی کو اختیار کرے، اپنی ذاتی زندگی میں اس قسم کی تبدیلی عام طور پر انسان کے لئے بہت مشکل ہوتی ہے۔ اس لئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مدعو کی طرف سے داعی کو برے سلوک کا تجربہ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں داعی اگر برے سلوک کے جواب میں خود بھی بر اسلوک کرے تو داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضا ختم ہو جائے گی جو دعوتی عمل کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ لوگوں کے برے سلوک کے جواب میں تم اچھا سلوک کرو۔ اس طرح دعوتی فضا پر قرار رہے گی اور آخر کار وہ وقت آئے گا جب کہ تمہاری بات لوگوں کے دلوں میں اترے، حتی کہ مخالفین بھی تمہارے ساتھی اور موافق بن جائیں۔ ان آیتوں سے پیغمبر کی جو تصویر معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ پیغمبر کا طریقہ یکطرفہ حسن کردار کا طریقہ تھا۔ پیغمبر کی نگاہ کسی آدمی کے حال پر نہیں بلکہ اس کے مستقبل پر ہوتی تھی، کوئی شخص اگر پیغمبر کے ساتھ برا رویہ اختیار کرے تو پیغمبر اس کو نظر انداز کرتا تھا، اس کو یقین ہوتا تھا کہ اس کا مخاطب آخر کار حق کی اہمیت کو سمجھے گا اور اس کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ پیغمبر کی نظر میں دشمن بھی دوست ہوتا ہے، پیغمبر کو اپنا آج کا مخالف کل کا موافق دکھائی دیتا ہے۔ صبرانہ کردار قرآن کی سورہ نمبر ۴۶ میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے---- پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا۔ اور ان کے لئے جلدی نہ کرو۔ جس دن یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ ہے تو گویا وہ دن کی ایک گھڑی سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page