قرآنی تصویر
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادہ نہیں رہے۔ یہ پہنچادینا ہے۔ پس وہی لوگ برباد ہوں گے جو نافرمانی کرنے والے ہیں (الاحقاف ۳۵) پیغمبر کے کردار کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو صبر ہے۔ حق کی دعوت دینے والے کو ہمیشہ صبر کی زمین پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ صبر در اصل اس کا نام ہے کہ مدعو کی ایذار سانیوں کو داعی یک طرفہ طور پر نظر انداز کرے۔ وہ مدعو کے ضد اور انکار کے باوجود مسلسل اس کو دعوت پہنچاتارہے۔ داعی اپنے مدعو کا ہر حال میں خیر خواہ بنا رہے۔ خواہ مدعو کی طرف سے اس کو کتنی ہی زیادہ نا خوش گواریوں کا تجربہ کیوں نہ ہو رہا ہو۔ یہ یکطرفہ صبر اس لئے ضروری ہے کہ اس کے بغیر مدعو کے اوپر خدا کی حجت تمام نہیں ہوتی۔ خدا کے تمام پیغمبروں نے ہر زمانہ میں اسی طرح صبر واستقامت کے ساتھ دعوت حق کا کام کیا۔ آئندہ بھی پیغمبروں کی نیابت میں جو لوگ دعوت حق کا کام کریں ان کو اسی نمونہ پر دعوت کا کام کرنا ہے۔ خدا کے یہاں داعی کا مقام صرف انھیں لوگوں کے لئے مقدر ہے جو یک طرفہ برداشت کا حوصلہ دکھا سکیں۔ پیغمبر کی شخصیت قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ---- تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم میں سے ہے۔ تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے۔ وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے۔ ایمان والوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ پھر بھی اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ اللہ میرے لئے کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس پر میں نے بھروسہ کیا۔ اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا (التوبہ ۱۲۹۔۱۲۸) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی یہ تصویر بتائی گئی ہے کہ اسلام کی جد و جہد میں ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader