Urdu book · مطالعہ سیرت

قرآنی تصویر

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

کا سارا اعتماد صرف ایک اللہ پر ہے۔ وہ لوگوں کو جس خدا کی طرف بلانے کے لئے اٹھے ہیں وہ ایسا خدا ہے جو سارے اقتدار کا مالک ہے۔ تمام خزانوں کی کنجیاں اس کے پاس ہیں۔ رسول اسی ایمان ویقین کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ اس لئے بالکل فطری ہے کہ اس کا سارا بھروسہ صرف ایک خدا پر ہو۔ وہ ہر قسم کی مصلحتوں اور اندیشوں سے بے پرواہ ہو کر حق کی خدمت میں لگا رہے۔ پھر یہ بتایا کہ خدا کا رسول لوگوں کے حق میں حد درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ وہ دوسروں کی تکلیفوں پر اس طرح کڑھتا ہے جیسے کہ وہ تکلیف خود اس کے اوپر پڑی ہو۔ وہ حرص کی حد تک لوگوں کی ہدایت کا طالب ہے۔ دعوت حق کی جدوجہد کے لئے اس کو جس چیز نے متحرک کیا ہے وہ سراسر خیر خواہی کا جذبہ ہے نہ کہ کوئی شخصی حوصلہ یا قومی مسئلہ کا۔ وہ خود لوگوں کی بھلائی کے لئے اٹھا ہے نہ کہ اپنی کسی ذاتی غرض کے لئے۔ عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: لوگ پروانوں کی طرح آگ میں گر رہے ہیں اور میں ان کی کمر پکڑ کر ان کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں ( الا انی آخذ بحجز کم ان تهافتو افی النار كتهافت الفراش والذباب ) مسند احمد رسول کی اس تصویر کی شکل میں حق کے داعی کی تصویر ہمیشہ کے لئے بتا دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے داعی کے اندر دو خاص صفات نمایاں طور پر ہونی چاہئیں۔ ایک یہ کہ اس کا بھروسہ ایک اللہ پر ہو۔ دوسرے یہ کہ مدعو کے لئے اس کے دل میں صرف محبت اور خیر خواہی کا جذبہ ہو ، اس کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ اگرچہ مدعو کی طرف سے طرح طرح کی شکایتیں پیش آتی ہیں۔ اس کے اور داعی کے درمیان قومی اور مادی جھگڑے بھی ہو سکتے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہ مطلوب ہے کہ داعی ان تمام چیزوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page