Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام کی شخصیت

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

اقلیت رکھنے والا گروہ عددی اکثریت کے اوپر غالب آیا۔(البقرہ ۲۴۹) اسی طرح ۳ھ میں غزوہ احد پیش آیا۔ اس میں مسلمانوں کو مشرکین کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ یہ بظاہر ایک دل شکن واقعہ تھا۔ مگر اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رہنما آیتیں اتریں وہ دوبارہ اس کے روشن پہلو کی طرف نشاندہی کرنے والی تھیں۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ احد کی جنگ میں اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے بدر کی جنگ میں مشرکین کو زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (آل عمران ۱۴۰) اسی طرح ۶ھ میں پیغمبر اسلام اور مشرکین کے درمیان وہ واقعہ پیش آیا جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ صلح بظاہر مسلمانوں کی سیاسی شکست کے ہم معنی تھی۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ کیا گیا تو بر عکس طور پر اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ ہم نے تم کو تمہارے حریف کے اوپر کھلی فتح دے دی (الفتح ۱) اس کا مطلب یہ تھا کہ بظاہر سیاسی شکست کے باوجود اس معاملہ میں تم کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی ہے۔ جو آخر کار مکمل فتح بننے والی ہے۔ وغیرہ۔ اس خدائی تربیت نے پیغمبر اسلام کو ایک ایسا انسان بنا دیا جو منفی طرز فکر سے مکمل طور پر خالی تھا۔ آپ مثبت فکر میں اتنا زیادہ بڑھے ہوئے تھے کہ بلاشبہ آپ کو دنیا کا سب سے بڑا مثبت مفکر (positive thinker) کہا جا سکتا ہے۔ اللہ پر اعتماد ہجرت کے سفر میں جب پیغمبر اسلام مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو اس وقت آپ کے ساتھ صرف حضرت ابوبکر صدیق تھے۔ یہ بے حد نازک سفر تھا۔ مکہ کے لوگ آپ کے جانی دشمن تھے۔ یہ یقینی تھا کہ وہ آپ کا پیچھا کریں گے۔ چنانچہ آپ نے شدید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page