Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام کی شخصیت

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

احتیاط کے ساتھ یہ سفر فرمایا۔ حتیٰ کہ آپ کو مکہ سے مدینہ کی طرف جانا تھا لیکن آپ الٹے رخ پر چل کر غارِ ثور میں پہنچے اور وہاں حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ چھپ کر چند دن قیام کیا۔ مکہ کے سرداروں کو جب آپ کی ہجرت کی خبر ہوئی تو انھوں نے اپنے آدمیوں کو چاروں طرف دوڑایا تا کہ آپ کو مدینہ پہنچنے سے پہلے پکڑ لیں۔ اور نعوذ باللہ آپ کو قتل کر ڈالیں۔ آپ ابھی غارِ ثور میں چھپے ہوئے تھے کہ مکہ کے کئی لوگ آپ کی تلاش میں وہاں پہنچ گئے۔ اس وقت وہ اتنے قریب تھے کہ غار کے اندر سے وہ صاف نظر آرہے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق نے جب یہ دیکھا کہ تلوار لئے ہوئے یہ لوگ غار کے منہ تک پہنچ گئے ہیں تو انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی طرف نظر ڈالے تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ یہ سن کر پیغمبر اسلام نے کامل اعتماد کے ساتھ فرمایا: یا ابا بکر ما ظنک باثنين الله ثالثهما ( سیرت ابن کثیر ۲/ ۲۴۳ ) یعنی اے ابو بکر، ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسر اللہ ہو۔ پیغمبر اسلام کی زبان سے نکلا ہوا یہ کلمہ اتنا عظیم ہے کہ شاید پوری انسانی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری نظیر موجود نہیں۔ اس وقت آپ بلاشبہ انتہائی پر خطر حالات میں تھے۔ لیکن اللہ پر اعتماد اتنا زیادہ بڑھا ہوا تھا کہ کوئی بھی طوفان اس کو متزلزل نہیں کر سکتا تھا۔ یہی بے پناہ اعتماد تھا جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ ایسے پر خوف حالات میں اتنا زیادہ بے خوفی کا کلمہ آپ کی زبان سے نکلے۔ عبادت کی کیفیت پیغمبر اسلام روزانہ خدا کی عبادت کرتے تھے دن کو بھی اور رات کو بھی۔ عبادت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page