Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام کی شخصیت

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

کے وقت آپ کے دل کی جو کیفیت ہوتی تھی اس کا اندازہ ایک روایت سے ہوتا ہے۔ حضرت علی بتاتے ہیں کہ جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اس میں ذکر ودعا کے کون سے الفاظ آپ کی زبان پر جاری ہوتے تھے۔ اس سلسلہ میں وہ بتاتے ہیں کہ جب آپ نماز کے وقت رکوع میں جھکتے تھے تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ ہوتے تھے: اللهم لك ركعت وبك آمنت خشع لك سمعى وبصرى مخى وعظمی وعصبی (اے اللہ میں تیرے آگے جھک گیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالہ کیا، تیرے آگے جھک گئے میرے کان، اور میری آنکھ، اور میرا دماغ اور میری ہڈیاں اور میرے اعصاب) اسی طرح حضرت علی بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام جب سجدہ کے وقت زمین پر اپناسر رکھتے تھے تو اس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو جاتے تھے: اللهم لك سجدت ، و بك آمنت ولك اسلمت ، سجد وجهى للذي خلقه وشق سمعه وبصره تبارك الله احسن الخالقين (اے اللہ میں نے تیرے لئے سجدہ کیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالہ کیا، میرا چہرہ اس کے آگے جھک گیا جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کی صورت گری کی اور اس کے کان اور آنکھ کو بنایا۔ پس با برکت ہے اللہ، سب سے بہتر تخلیق کرنے والا) صحیح مسلم بحوالہ مشکاۃ المصابیح جلد اول صفحہ ۲۵۷ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام جب عبادت میں مشغول ہوتے تھے تو اس وقت ان کے جذبات کیا ہوتے تھے۔ اس وقت وہ خدا کی عظمت و ہیبت کے احساس میں ڈوبے ہوئے ہوتے تھے۔ خدا کی برتری اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا تصور ان کے سینہ میں ایک طوفان کی حیثیت اختیار کر لیتا تھا۔ ان کی عبادت ان کے لئے خدائے عظیم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page