Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام کی شخصیت

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

وکبیر کے سامنے حاضری کے ہم معنی بن جاتی تھی۔ آپ کی عبادت آپ کے لئے انتہائی حد تک ایک زندہ عمل تھی نہ کہ محض کچھ رسمی اعمال کی ادائیگی۔ ہدایت کے لئے تڑپنا قرآن کی سورہ نمبر ۲۶ میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ۔۔۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ شاید تم اپنے کو ہلاک کر ڈالو گے اس پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔ اگر ہم چاہیں تو تم پر آسمان سے نشانی اتاریں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں (الشعراء۔ ۴) یہ اور اس طرح کی دوسری شہادتیں بتاتی ہیں کہ پیغمبر اسلام اپنے مخاطبین کی ہدایت کے لئے کتنا زیادہ حریص تھے۔ ”شاید تم اپنے آپ کو ہلاک کر لوگے“ کا جملہ اس کامل خیر خواہی کو بتا رہا ہے جو پیغمبر اسلام کو اپنے مخاطبین کے حق میں تھی۔ دعوتی عمل خالص خیر خواہی کے جذبہ سے ابلتا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اسی کامل خیر خواہی کے تحت اپنی قوم کو حق کی دعوت پہنچائی۔ اور آپ نے اپنی تمام کوششیں اس کی راہ میں صرف کر دیں۔ اس کے باوجود ان کی اکثریت آپ کے پیغام کو ماننے پر راضی نہ ہوئی۔ اس کے بعد آپ کا حال یہ ہوا کہ آپ ان کی ہدایت کے غم میں ہلکان ہونے لگے۔ آپ کے دن کا چین رخصت ہو گیا اور آپ کی رات کی نیند غائب ہو گئی۔ لعلک باخع النفسک (شاید تم اپنے آپ کو ہلاک کر لو گے) کا مطلب آپ کو اس سے روکنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ آپ نے اپنی پیغمبرانہ ذمہ داری کو اس کی آخری اور انتہائی حد تک ادا کر دیا۔ دوسرے کی ہدایت کے لئے اپنے آپ کو ہلکان کرنا، پیغمبر کی شخصیت کا اہم ترین وصف ہے۔ اس وصف میں آپ بلاشبہ کمال کے درجہ کو پہنچے ہوئے تھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page