پیغمبر اسلام کی شخصیت
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں۔ اور جب میں شکم سیر ہوں تو تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں۔ عرض ربی لیجعل لی بطحاء مکہ ذہبا فقلت لا یارب ولكن اشبع يوما واجوع يوما فاذا جعت تضرعت اليك وذكر تك واذا شبعت حمد تك وشكرتك ( احمدو الترمذي بحواله مشكاة المصابيح ۱۴۳۳/۳ ) کیفیات کا تعلق حالات سے ہے۔ انسان جس قسم کے حالات میں ہو ویسی ہی کیفیات اس کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ پیغمبر اسلام بھی قرآن کے مطابق ، ایک بشر تھے۔ اس لئے آپ بالقصد یہ اہتمام فرماتے تھے کہ آپ ان حالات سے گزریں جو انسان کے اندر مطلوب ربانی کیفیات پیدا کرنے والے ہیں۔ اسی لئے آپ نے اس کو پسند نہیں کیا کہ آپ ہمیشہ آرام اور خوشی کی حالت میں رہیں۔ اس کے برعکس آپ نے اس کا اہتمام فرمایا کہ آپ پر سخت حالات بھی گزریں تاکہ اس کے اثر سے آپ کے اندر انابت اور تضرع کی کیفیت پیدا ہو۔ اسی طرح آپ پر اچھے حالات بھی گزریں تاکہ اس کے اثر سے آپ کے اندر حمد اور شکر کے جذبات ابھریں۔ شجاعت و بے خوفی ۸ھ میں وہ غزوہ پیش آیا جس کو غزوہ حنین کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام بھی اس غزوہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader